سورہ At-Talaq — آیت 4

طلاق · 65:4 · 4/12

وَٱلَّـٰٓـِٔى يَئِسْنَ مِنَ ٱلْمَحِيضِ مِن نِّسَآئِكُمْ إِنِ ٱرْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَـٰثَةُ أَشْهُرٍ وَٱلَّـٰٓـِٔى لَمْ يَحِضْنَ ۚ وَأُو۟لَـٰتُ ٱلْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ وَمَن يَتَّقِ ٱللَّهَ يَجْعَل لَّهُۥ مِنْ أَمْرِهِۦ يُسْرًا

Walla-ee ya-isna mina almaheedimin nisa-ikum ini irtabtum faAAiddatuhunna thalathatuashhurin walla-ee lam yahidna waolatual-ahmali ajaluhunna an yadaAAna hamlahunnawaman yattaqi Allaha yajAAal lahu min amrihi yusra

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

اور تمہاری (مطلقہ) عورتیں جو حیض سے ناامید ہوچکی ہوں اگر تم کو (ان کی عدت کے بارے میں) شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور جن کو ابھی حیض نہیں آنے لگا (ان کی عدت بھی یہی ہے) اور حمل والی عورتوں کی عدت وضع حمل (یعنی بچّہ جننے) تک ہے۔ اور جو خدا سے ڈرے گا خدا اس کے کام میں سہولت پیدا کردے گا

محمد جوناگڑھی

تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے ناامید ہو گئی ہوں، اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور ان کی بھی جنہیں حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو اور حاملہ عورتوں کی عدت ان کے وضع حمل ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اللہ اس کے (ہر) کام میں آسانی کر دے گا.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں ان کے معاملہ میں اگر تم لوگوں کو کوئی شک لاحق ہے تو (تمہیں معلوم ہو کہ) ان کی عدّت  تین مہینے ہے۔ اور یہی حکم اُن کا ہے جنہیں ابھی حیض نہ آیا ہو۔ اور حاملہ عورتوں کی عدّت کی حد یہ ہے کہ اُن کا وضعِ حمل ہو جائے۔ جو شخص اللہ سے ڈرے اُس کے معاملہ میں وہ سہولت پیدا کردیتاہے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور تمہارے ہاں کی خواتین میں سے جو حیض سے مایوس ہوچکی ہوں اگر تمہیں شک ہو تو ان کی عدت تین ماہ ہوگی اور حاملہ خواتین کی عدت یہ ہے کہ ان کا وضع حمل ہوجائے۔ اور جو کوئی اللہ کا تقویٰ اختیار کرتا ہے وہ اس کے کاموں میں آسانی پیدا کردیتا ہے۔