سورہ At-Talaq — آیت 12
طلاق · 65:12 · 12/12
ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ سَبْعَ سَمَـٰوَٰتٍ وَمِنَ ٱلْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ ٱلْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ ٱللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَىْءٍ عِلْمًۢا
Allahu allathee khalaqa sabAAasamawatin wamina al-ardi mithlahunnayatanazzalu al-amru baynahunna litaAAlamoo anna AllahaAAala kulli shay-in qadeerun waanna Allaha qad ahatabikulli shay-in AAilma
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ایسی ہی زمینیں۔ ان میں (خدا کے) حکم اُترتے رہتے ہیں تاکہ تم لوگ جان لو کہ خدا چیز پر قادر ہے۔ اور یہ کہ خدا اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے
محمد جوناگڑھی
اللہ وه ہے جس نے سات آسمان بنائے اور اسی کے مثل زمینیں بھی۔ اس کا حکم ان کے درمیان اترتا ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو بہ اعتبار علم گھیر رکھا ہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور زمین کی قسم سے بھی اُنہی کے مانند۔ ان کے درمیان حکم نازل ہوتا رہتا ہے۔ (یہ بات تمہیں اس لیے بتائی جارہی ہے) تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، اور یہ کہ اللہ کا علم ہر چیز پر محیط ہے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے ہیں اور زمین میں سے بھی انہی کی مانند۔ ان کے درمیان (اللہ کا) امر نازل ہوتا ہے تاکہ تم یقین رکھو کہ اللہ ہرچیز پر قادر ہے اور یہ کہ اللہ نے اپنے علم سے ہر شے کا احاطہ کیا ہوا ہے۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اللہ وه ہے جس نے سات آسمان بنائے اور اسی کے مثل زمینیں بھی[1] ۔ اس کا حکم ان کے درمیان اترتا ہے[2] تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو بہ اعتبار علم گھیر رکھا ہے.[3]
حواشی
[1] أَيْ خَلَقَ مِنَ الأَرْضِ مِثْلَهُنَّ یعنی سات آسمانوں کی طرح، اللہ نے سات زمینیں بھی پیدا کی ہیں۔ بعض نے اس سے سات اقالیم مراد لیے ہیں، لیکن یہ صحیح نہیں۔ بلکہ جس طرح اوپر نیچے سات آسمان ہیں، اسی طرح سات زمینیں ہیں، جن کے درمیان بعد ومسافت ہے اور ہر زمین میں اللہ کی مخلوق آباد ہے (القرطبی) احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، جیسے نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا «مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الأَرْضِ ظُلْمًا فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَاضِينَ» (صحيح مسلم، كتاب البيوع، باب تحريم الظلم) ”جس نے کسی کی ایک بالشت زمین بھی ہتھیالی تو قیامت والے دن اس زمین کا اتنا حصہ ساتوں زمینوں سے طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا“۔ صحیح بخاری کے الفاظ ہیں «خسف بِهِ إِلَى سَبْعِ أَرَاضِينَ» ”اس کو ساتوں زمینوں تک دھنسا دیا جائے گا“۔ (صحيح بخاري، كتاب المظالم باب إثم من ظلم شيئا من الأرض) بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ ہر زمین میں، اسی طرح کا پیغمبر ہے، جس طرح کا پیغمبر تمہاری زمین پر آیا، مثلاً آدم، آدم کی طرح۔ نوح، نوح کی طرح۔ ابراہیم، ابراہیم کی طرح۔ عیسیٰ ، عیسیٰ کی طرح (علیہم السلام)۔ لیکن یہ بات کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں۔ [2] یعنی جس طرح ہر آسمان پر اللہ کا حکم نافذ اور غالب ہے، اسی طرح ہر زمین پر اس کا حکم چلتا ہے، آسمانوں کی طرح ساتوں زمینوں کی بھی وہ تدبیر فرماتا ہے۔ [3] پس اس کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں، چاہے وہ کیسی ہی ہو۔