سورہ At-Tahrim — آیت 2
حرمت · 66:2 · 2/12
قَدْ فَرَضَ ٱللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَـٰنِكُمْ ۚ وَٱللَّهُ مَوْلَىٰكُمْ ۖ وَهُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْحَكِيمُ
Qad farada Allahu lakum tahillataaymanikum wallahu mawlakum wahuwaalAAaleemu alhakeem
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
خدا نے تم لوگوں کے لئے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر کردیا ہے۔ اور خدا ہی تمہارا کارساز ہے۔ اور وہ دانا (اور) حکمت والا ہے
محمد جوناگڑھی
تحقیق کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے قسموں کو کھول ڈالنا مقرر کر دیا ہے اور اللہ تمہارا کارساز ہے اور وہی (پورے) علم واﻻ، حکمت واﻻ ہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اللہ نے تم لوگوں کے لیے اپنی قسموں کی پابندی سے نکلنے کا طریقہ مقرر کر دیا ہے۔ اللہ تمہارا مولیٰ ہے ، اور وہی علیم و حکیم ہے۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اللہ نے تمہارے لیے اپنی قسموں کو کھولنے کا طریقہ مقرر کردیا ہے۔ اور اللہ تمہارا مددگار ہے اور وہ سب کچھ جاننے والا کمال حکمت والا ہے۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
تحقیق کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے قسموں کو کھول ڈالنا مقرر کر دیا ہے[1] اور اللہ تمہارا کارساز ہے اور وہی (پورے) علم واﻻ، حکمت واﻻ ہے.
حواشی
[1] یعنی کفارہ ادا کرکے اس کام کو کرنے کی، جس کی نہ کرنے کی قسم کھائی ہو، اجازت دے دی، قسم کا یہ کفارہ سورۃ مائد ۃ۔ 89 میں بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے بھی کفارہ ادا کیا (فتح القدیر) اس امر میں علماء کے مابین اختلاف ہے کہ اگر کوئی شخص کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلے تو اس کا یہ حکم ہے؟ جمہور علماء کے نزدیک بیوی کے علاوہ کسی چیز کو حرام کرنے سے وہ چیز حرام ہوگی اور نہ اس پر کفارہ ہے، اگر بیوی کو اپنے اوپر حرام کرے گا تو اس سے اس کا مقصد اگر طلاق ہے تو طلاق ہو جائے گی اور اگر طلاق کی نیت نہیں ہے تو راجح قول کے مطابق یہ قسم ہے، اس کے لئے کفارہ کی ادائیگی ضروری ہے۔ (ایسر التفاسیر)۔