سورہ At-Taghabun — آیت 7

ہار جیت · 64:7 · 7/18

زَعَمَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَن لَّن يُبْعَثُوا۟ ۚ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّى لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ۚ وَذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٌ

ZaAAama allatheena kafaroo an lanyubAAathoo qul bala warabbee latubAAathunna thummalatunabbaonna bima AAamiltum wathalika AAalaAllahi yaseer

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

جو لوگ کافر ہیں ان کا اعتقاد ہے کہ وہ (دوبارہ) ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے۔ کہہ دو کہ ہاں ہاں میرے پروردگار کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر جو کام تم کرتے رہے ہو وہ تمہیں بتائے جائیں گے اور یہ (بات) خدا کو آسان ہے

محمد جوناگڑھی

ان کافروں نے خیال کیا ہے کہ دوباره زنده نہ کیے جائیں گے۔ آپ کہہ دیجئے کہ کیوں نہیں اللہ کی قسم! تم ضرور دوباره اٹھائے جاؤ گے پھر جو تم نے کیا ہے اس کی خبر دیئے جاؤ گے اور اللہ پر یہ بالکل ہی آسان ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

مُنکرین نے بڑے دعوے سے کہا ہے کہ وہ مرنے کے بعد ہر گز دوبارہ نہ اُٹھائے جائیں گے۔ ان سے کہو”نہیں، میرےرب کی قسم تم ضرور اُٹھائے جاؤ گے، پھر ضرور تمہیں بتایا جائے گا کہ تم نے (دنیا میں)کیا کچھ کیا ہے، اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔“

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

کافروں کو یہ زعم ہے کہ وہ (مرنے کے بعد) ہرگز اٹھائے نہیں جائیں گے۔ (اے نبی ﷺ !) آپ کہہ دیجیے : کیوں نہیں ! مجھے میرے رب کی قسم ہے تم لازماً اٹھائے جائو گے پھر تمہیں لازماً جتلایا جائے گا ان اعمال کے بارے میں جو تم نے کیے ہیں۔ اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

ان کافروں نے خیال کیا ہے کہ دوباره زنده نہ کیے جائیں گے[1] ۔ آپ کہہ دیجئے کہ کیوں نہیں اللہ کی قسم! تم ضرور دوباره اٹھائے جاؤ گے[2] پھر جو تم نے کیا ہے اس کی خبر دیئے جاؤ گے[3] اور اللہ پر یہ بالکل ہی آسان ہے.[4]

حواشی

[1] یعنی یہ عقیدہ کہ قیامت والے دن دوبارہ زندہ نہیں کیے جائیں گے، یہ کافروں کا محض گمان ہے، جس کی پشت پر دلیل کوئی نہیں۔ زعم کا اطلاق کذب پر بھی ہوتا ہے۔ [2] قرآن مجید میں تین مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنے رب کی قسم کھا کر یہ اعلان کرے کہ اللہ تعالیٰ ضرور دوبارہ زندہ فرمائے گا۔ ان میں سے ایک یہ مقام ہے اس سے قبل ایک مقام سورۂ یونس، آیت 53 اور دوسرا مقام سورۂ سبا، آیت 3 ہے۔ [3] یہ وقوع قیامت کی حکمت ہے کہ آخر اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کو کیوں دوبارہ زندہ کرےگا؟ اس لیے تاکہ وہاں ہر ایک کو اس کے عمل کی پوری جزا دی جائے۔ کیونکہ دنیا میں ہم دیکھتے کہ یہ جزا مکمل شکل میں بالعموم نہیں ملتی۔ نیک کو نہ بد کو۔ اب اگر قیامت والے دن بھی مکمل جزا کا اہتمام نہ ہو تو دنیا ایک کھلنڈرے کا کھیل اور فعل عبث ہی قرار پائے گی، جب کہ اللہ کی ذات ایسی باتوں سے بہت بلند ہے۔ اس کا تو کوئی فعل عبث نہیں، چہ جائیکہ جن وانس کی تخلیق کو بےمقصد اور ایک کھیل سمجھ لیا جائے۔ تَعَالَى اللهُ عَنْ ذَلِكَ عُلُوًّا كَبِيرًا۔ [4] یہ دوبارہ زندگی ، انسانوں کو کتنی ہی مشکل یا مستبعد نظر آتی ہو ، لیکن اللہ کے لیے بالکل آسان ہے۔