سورہ At-Taghabun — آیت 1

ہار جیت · 64:1 · 1/18

يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۖ لَهُ ٱلْمُلْكُ وَلَهُ ٱلْحَمْدُ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ

Yusabbihu lillahi ma feeassamawati wama fee al-ardilahu almulku walahu alhamdu wahuwa AAala kullishay-in qadeer

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے (سب) خدا کی تسبیح کرتی ہے۔ اسی کی سچی بادشاہی ہے اور اسی کی تعریف (لامتناہی) ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

محمد جوناگڑھی

(تمام چیزیں) جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں اسی کی سلطنت ہے اور اسی کی تعریف ہے، اور وه ہر چیز پر قادر ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اللہ کی تسبیح کر رہی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور ہر وہ چیز جو زمین میں ہے۔ اُسی کی بادشاہی ہے اور اُسی  کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

تسبیح کرتی ہے اللہ کی ہر وہ شے جو آسمانوں میں ہے اور ہر وہ شے جو زمین میں ہے۔ اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے حمد ہے۔ اور وہ ہرچیز پر قادر ہے۔

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

(تمام چیزیں) جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں[1] اسی کی سلطنت ہے اور اسی کی تعریف ہے[2]، اور وه ہر چیز پر قادر ہے.

حواشی

[1] یعنی آسمان وزمین کی ہر مخلوق اللہ تعالیٰ کی ہر نقص وعیب سے تنزیہ وتقدیس بیان کرتی ہے۔ زبان حال سے بھی اور زبان مقال سے بھی۔ جیسا کہ پہلے گزرا۔ [2] یعنی یہ دونوں خوبیاں بھی اسی کے ساتھ خاص ہیں۔ اگر کسی کو کوئی اختیار حاصل ہے تو وہ اسی کا عطا کردہ ہے جو عارضی ہے، کسی کے پاس کچھ حسن وکمال ہے تو اسی مبدا فیض کی کرم گستری کا نتیجہ ہے، اس لیے اصل تعریف کا مستحق بھی صرف وہی ہے۔