سورہ Ash-Shuraa — آیت 47
شورٰی · 42:47 · 47/53
ٱسْتَجِيبُوا۟ لِرَبِّكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهُۥ مِنَ ٱللَّهِ ۚ مَا لَكُم مِّن مَّلْجَإٍ يَوْمَئِذٍ وَمَا لَكُم مِّن نَّكِيرٍ
Istajeeboo lirabbikum min qabli an ya'tiyayawmun la maradda lahu mina Allahi ma lakummin malja-in yawma-ithin wama lakum min nakeer
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
ان سے کہہ دو کہ) قبل اس کے کہ وہ دن جو ٹلے گا نہیں خدا کی طرف سے آ موجود ہو اپنے پروردگار کا حکم قبول کرو۔ اس دن تمہارے لئے نہ کوئی جائے پناہ ہوگی اور نہ تم سے گناہوں کا انکار ہی بن پڑے گا
محمد جوناگڑھی
اپنے رب کا حکم مان لو اس سے پہلے کہ اللہ کی جانب سے وه دن آجائے جس کا ہٹ جانا ناممکن ہے، تمہیں اس روز نہ تو کوئی پناه کی جگہ ملے گی نہ چھﭗ کر انجان بن جانے کی.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
مان لو اپنے ربّ کی بات قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس کے ٹلنے کی کوئی صُورت اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔ اُس دن تمہارے لیے کوئی جائے پناہ نہ ہو گی اور نہ کوئی تمہارے حال کو بدلنے کی کوشش کرنے والا ہوگا۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
(اے اہل ِایمان !) اپنے رب کی پکار پر لبیک کہو اس سے پہلے کہ اللہ کے حکم سے وہ دن آجائے جسے لوٹایا نہ جاسکے گا نہیں ہوگی تمہارے لیے اس دن کوئی جائے پناہ اور نہیں ہوگا تمہارے لیے کوئی موقع انکار
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اپنے رب کا حکم مان لو اس سے پہلے کہ اللہ کی جانب سے وه دن آجائے جس کا ہٹ جانا ناممکن[1] ہے، تمہیں اس روز نہ تو کوئی پناه کی جگہ ملے گی نہ چھﭗ کر انجان بن جانے کی.[2]
حواشی
[1] یعنی جس کو رد کرنے اور ٹالنے کی کوئی طاقت نہیں رکھے گا۔ . [2] یعنی تمہارے لیے کوئی ایسی جگہ نہیں ہوگی، کہ جس میں تم چھپ کر انجان بن جاؤ اور پہچانے نہ جاسکو یا نظر میں نہ آسکو جیسے فرمایا: «يَقُولُ الإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ ، كَلا لا وَزَرَ، إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ» (القيامة: 10۔ 12) ”اس دن انسان کہے گا، کہیں بھاگنے کی جگہ ہے، ہرگز نہیں، کوئی راہ فرار نہیں ہوگی، اس دن تیرے رب کے پاس ہی ٹھکانا ہو گا“۔ یا نکیر بمعنی انکار ہے کہ تم اپنے گناہوں کا انکار نہ کرسکو گے کیوں کہ ایک تو وہ سب لکھے ہوئے ہوں گے۔ دوسرے خود انسان کے اعضا بھی گواہی دیں گے۔ یا جو عذاب تمہیں تمہارے گناہوں کی وجہ سے دیا جائے گا تم اس عذاب کا انکار نہیں کرسکو گے، کیوں کہ اعتراف گناہ کے بغیر تمہیں چارہ نہیں ہوگا۔