سورہ Ash-Shuraa — آیت 29

شورٰی · 42:29 · 29/53

وَمِنْ ءَايَـٰتِهِۦ خَلْقُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَثَّ فِيهِمَا مِن دَآبَّةٍ ۚ وَهُوَ عَلَىٰ جَمْعِهِمْ إِذَا يَشَآءُ قَدِيرٌ

Wamin ayatihi khalqu assamawatiwal-ardi wama baththa feehima min dabbatinwahuwa AAala jamAAihim itha yashao qadeer

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور ان جانوروں کا جو اس نے ان میں پھیلا رکھے ہیں اور وہ جب چاہے ان کے جمع کرلینے پر قادر ہے

محمد جوناگڑھی

اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش ہے اور ان میں جانداروں کا پھیلانا ہے۔ وه اس پر بھی قادر ہے کہ جب چاہے انہیں جمع کردے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اُس کی نشانیوں میں سے ہے یہ زمین اور آسمانوں کی پیدائش ، اور یہ جاندار مخلوقات جو اُس نے دونوں جگہ پھیلا رکھی ہیں۔ وہ جب چاہے انہیں اکٹھا کر سکتا ہے۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور ان دونوں میں اس نے جو جان دار پھیلادیے ہیں۔ اور وہ جب چاہے ان سب کو جمع کرنے پر قادر ہے۔

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش ہے اور ان میں جانداروں کا پھیلانا ہے۔ وه اس پر بھی قادر ہے کہ جب چاہے انہیں جمع کردے.[1]

حواشی

[1] دَابَّةٍ (زمین پر چلنے پھرنے والا) کا لفظ عام ہے، جس میں جن وانس کے علاوہ تمام حیوانات شامل ہیں، جن کی شکلیں، رنگ، زبانیں، طبائع، اور انواع واجناس ایک دوسرے سے قطعاً مختلف ہیں۔ اور وہ روئے زمین پر پھیلے ہوئے ہیں۔ ان سب کو اللہ تعالیٰ قیامت والے دن ایک ہی میدان میں جمع فرمائے گا۔