سورہ Ash-Shu'ara — آیت 49

شعراٗ · 26:49 · 49/227

قَالَ ءَامَنتُمْ لَهُۥ قَبْلَ أَنْ ءَاذَنَ لَكُمْ ۖ إِنَّهُۥ لَكَبِيرُكُمُ ٱلَّذِى عَلَّمَكُمُ ٱلسِّحْرَ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ۚ لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَـٰفٍ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ

Qala amantum lahu qabla an athanalakum innahu lakabeerukumu allathee AAallamakumu assihrafalasawfa taAAlamoona laoqattiAAanna aydiyakum waarjulakummin khilafin walaosallibannakum ajmaAAeen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

فرعون نے کہا کیا اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے، بےشک یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔ سو عنقریب تم (اس کا انجام) معلوم کرلو گے کہ میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں اطراف مخالف سے کٹوا دوں گا اور تم سب کو سولی پر چڑھوا دوں گا

محمد جوناگڑھی

فرعون نے کہا کہ میری اجازت سے پہلے تم اس پر ایمان لے آئے؟ یقیناً یہی تمہارا وه بڑا (سردار) ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے، سو تمہیں ابھی ابھی معلوم ہوجائے گا، قسم ہے میں ابھی تمہارے ہاتھ پاؤں الٹے طور پر کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

فرعون نے کہا”تم موسیٰؑ کی بات مان گئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دیتا! ضرور یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادُو سکھایا ہے۔ اچھا، ابھی تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے، میں تمہارے ہاتھ پاوٴں مخالف سمتوں سے کٹواوٴں گا اور تم سب کو سُولی پر چڑھادوں گا۔“

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

فرعون نے کہا : کیا تم لوگ ایمان لے آئے ہو اس سے پہلے کہ میں تمہیں اجازت دیتا یقیناً یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے تو بہت جلد تمہیں (اس کا انجام) معلوم ہوجائے گا میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں کاٹ ڈالوں گا مخالف سمت سے اور تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

فرعون نے کہا کہ میری اجازت سے پہلے تم اس پر ایمان لے آئے؟ یقیناً یہی تمہارا وه بڑا (سردار) ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے[1] ، سو تمہیں ابھی ابھی معلوم ہوجائے گا، قسم ہے میں ابھی تمہارے ہاتھ پاؤں الٹے طور پر کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا.[2]

حواشی

[1] فرعون کے لیے یہ واقعہ بڑا عجیب اور نہایت حیرت ناک تھا کہ جن جادوگروں کے ذریعے سے وہ فتح و غلبے کی آس لگائے بیٹھا تھا، وہی نہ صرف مغلوب ہوگئے بلکہ موقع پر ہی وہ اس رب پر ایمان لے آئے، جس نے حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کو دلائل و معجزات دے کر بھیجا تھا۔ لیکن بجائے اس کے کہ فرعون بھی غوروفکر سےکام لیتا اور ایمان لاتا، اس نے مکابرہ اور عناد کا راستہ اختیار کیا اور جادوگروں کو ڈرانا دھمکانا شروع کردیا اورکہاکہ تم سب اسی کے شاگرد لگتے ہو اورتمہارا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سازش کے ذریعے سے تم ہمیں یہاں سے بے دخل کردو، «إِنَّ هَذَا لَمَكْرٌ مَكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا» (الأعراف: 123) ۔ [2] الٹے طور پر ہاتھ پاؤں کاٹنے کا مطلب، دایاں ہاتھ اور بایاں پیر یا بایاں ہاتھ اور دایاں پیر ہے۔ اس پر سولی مستزاد۔ یعنی ہاتھ پیر کاٹنے سے بھی اس کی آتش غضب ٹھنڈی نہ ہوئی، مزید اس نے سولی پر لٹکانے کا اعلان کیا۔