سورہ Ar-Rum — آیت 9

روم · 30:9 · 9/60

أَوَلَمْ يَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ كَانُوٓا۟ أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَأَثَارُوا۟ ٱلْأَرْضَ وَعَمَرُوهَآ أَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا وَجَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ ۖ فَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَـٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

Awa lam yaseeroo fee al-ardi fayanthurookayfa kana AAaqibatu allatheena min qablihimkanoo ashadda minhum quwwatan waatharoo al-ardawaAAamarooha akthara mimma AAamarooha wajaat-humrusuluhum bilbayyinati fama kana Allahuliyathlimahum walakin kanoo anfusahumyathlimoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

کیا اُن لوگوں نے ملک میں سیر نہیں کی (سیر کرتے )تو دیکھ لیتے کہ جو لوگ اُن سے پہلے تھے ان کا انجام کیسے ہوا۔ وہ اُن سے زورو قوت میں کہیں زیادہ تھے اور اُنہوں نے زمین کو جوتا اور اس کو اس سے زیادہ آباد کیا تھا جو اُنہوں نے آباد کیا۔ اور اُن کے پاس اُن کے پیغمبر نشانیاں لےکر آتے رہے تو خدا ایسا نہ تھا کہ اُن پر ظلم کرتا۔ بلکہ وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے

محمد جوناگڑھی

کیا انہوں نے زمین پر چل پھر کر یہ نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے لوگوں کا انجام کیسا (برا) ہوا؟ وه ان سے بہت زیاده توانا (اور طاقتور) تھے اور انہوں نے (بھی) زمین بوئی جوتی تھی اور ان سے زیاده آباد کی تھی اور ان کے پاس ان کے رسول روشن دﻻئل لے کر آئے تھے۔ یہ تو ناممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ ان پر ﻇلم کرتا لیکن (دراصل) وه خود اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے تھے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور کیا یہ لو گ کبھی زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ انہیں ان لوگوں کا انجام نظر آتا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں؟ وہ ان سے زیادہ طاقت رکھتے تھے ، انہوں نے زمین کو خوب ادھیڑا تھا اور اسے اتنا آباد کیا تھا جتنا انہوں نے نہیں کیا ہے۔ ان کےپاس ان کے رسول روشن نشانیاں لے کر آئے۔ پھر اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا، مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

کیا یہ لوگ زمین میں گھومے پھرے نہیں کہ وہ دیکھتے کہ کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے وہ قوت میں ان سے کہیں زیادہ تھے اور انہوں نے زمین کو کاشت کیا اور اسے آباد کیا اس سے کہیں بڑھ کر جو (آ ج) انہوں نے آباد کیا اور ان کے پاس بھی ان کے رسول ؑ آئے تھے کھلی نشانیاں لے کر سو اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہیں تھا بلکہ انہوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

کیا انہوں نے زمین پر چل پھر کر یہ نہیں دیکھا[1] کہ ان سے پہلے لوگوں کا انجام کیسا (برا) ہوا[2]؟ وه ان سے بہت زیاده توانا (اور طاقتور) تھے[3] اور انہوں نے (بھی) زمین بوئی جوتی تھی[4] اور ان سے زیاده آباد کی تھی[5] اور ان کے پاس ان کے رسول روشن دﻻئل لے کر آئے تھے[6]۔ یہ تو ناممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ ان[7] پر ﻇلم کرتا لیکن (دراصل) وه خود اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے تھے.[8]

حواشی

[1] یہ آثار وکھنڈرات اور نشانات عبرت پر غور وفکر نہ کرنے پر توبیخ کی جا رہی ہے۔ مطلب ہے کہ چل پھر کر وہ مشاہدہ کر چکے ہیں۔ [2] یعنی ان کافروں کا، جن کو اللہ نے ان کے کفر باللہ، حق کے انکار اور رسولوں کی تکذیب کی وجہ سے ہلاک کیا۔ [3] یعنی قریش اور اہل مکہ سے زیادہ۔ [4] یعنی اہل مکہ تو کھیتی باڑی سے ناآشنا ہیں لیکن پچھلی قومیں اس وصف میں بھی ان سے بڑھ کر تھیں۔ [5] اس لئے کہ ان کی عمریں بھی زیادہ تھیں، جسمانی قوت میں بھی زیادہ تھے اسباب معاش بھی ان کو زیادہ حاصل تھے، پس انہوں نے عمارتیں بھی زیادہ بنائیں، زراعت وکاشتکاری بھی کی اور وسائل رزق بھی زیادہ مہیا کئے۔ [6] لیکن وہ ان پر ایمان نہیں لائے۔ نتیجتاً تمام تر قوتوں، ترقیوں اور فراغت وخوش حالی کے باوجود ہلاکت ان کا مقدر بن کر رہی۔ [7] کہ انہیں بغیر گناہ کے عذاب میں مبتلا کر دیتا۔ [8] یعنی اللہ کا انکار اور رسولوں کی تانیث کرکے۔