سورہ Ar-Rum — آیت 29
روم · 30:29 · 29/60
بَلِ ٱتَّبَعَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ أَهْوَآءَهُم بِغَيْرِ عِلْمٍ ۖ فَمَن يَهْدِى مَنْ أَضَلَّ ٱللَّهُ ۖ وَمَا لَهُم مِّن نَّـٰصِرِينَ
Bali ittabaAAa allatheena thalamooahwaahum bighayri AAilmin faman yahdee man adallaAllahu wama lahum min nasireen
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
مگر جو ظالم ہیں بےسمجھے اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں تو جس کو خدا گمراہ کرے اُسے کون ہدایت دے سکتا ہے؟ اور ان کا کوئی مددگار نہیں
محمد جوناگڑھی
بلکہ بات یہ ہے کہ یہ ﻇالم تو بغیر علم کے خواہش پرستی کر رہے ہیں، اسے کون راه دکھائے جسے اللہ تعالیٰ راه سے ہٹا دے، ان کا ایک بھی مددگار نہیں.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
مگر یہ ظالم بے سمجھے بوجھے اپنے تخیلات کے پیچھے چل پڑے ہیں۔ اب کون اس شخص کو راستہ دکھا سکتا ہے جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو۔ ایسے لوگوں کا تو کوئی مددگار نہیں ہو سکتا
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) ان ظالموں نے اپنی خواہشات کی پیروی کی ہے بغیر کسی علم کے تو اس شخص کو کون ہدایت دے گا جس کو اللہ نے بھٹکا دیاہو اور اب ان کے لیے کوئی مددگار نہیں ہے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
بلکہ بات یہ ہے کہ یہ ﻇالم تو بغیر علم کے[1] خواہش پرستی کر رہے ہیں، اسے کون راه دکھائے جسے اللہ تعالیٰ راه سے ہٹا دے[2]، ان کا ایک بھی مددگار نہیں.[3]
حواشی
[1] یعنی اس حقیقت کا انہیں ادراک ہی نہیں ہے کہ وہ علم سے بے بہرہ اور ضلالت کا شکار ہیں اور اسی بے علمی اور گمراہی کی وجہ سے وہ اپنی عقل کو کام میں لانے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور اپنی نفسانی خواہشات اور آرائے فاسدہ کے پیرو کار ہیں۔ [2] کیونکہ اللہ کی طرف سےہدایت اسے ہی نصیب ہوتی ہے جس کے اندر ہدایت کی طلب کی اور آرزو ہوتی ہے،جو اس طلب صادق سےمحروم ہوتے ہیں، انہیں گمراہی میں بھٹکنے کے لئے چھوڑدیا جاتا ہے۔ [3] یعنی ان گمراہوں کا کوئی مددگار نہیں جو انہیں ہدایت سے بہرہ ور کر دے یا ان سے عذاب کو پھیر دے۔