سورہ Ar-Ra'd — آیت 37
گرج · 13:37 · 37/43
وَكَذَٰلِكَ أَنزَلْنَـٰهُ حُكْمًا عَرَبِيًّا ۚ وَلَئِنِ ٱتَّبَعْتَ أَهْوَآءَهُم بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ ٱلْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ ٱللَّهِ مِن وَلِىٍّ وَلَا وَاقٍ
Wakathalika anzalnahu hukmanAAarabiyyan wala-ini ittabaAAta ahwaahum baAAda majaaka mina alAAilmi ma laka mina Allahi minwaliyyin wala waq
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی زبان کا فرمان نازل کیا ہے۔ اور اگر تم علم (ودانش) آنے کے بعد ان لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو خدا کے سامنے کوئی نہ تمہارا مددگار ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا
محمد جوناگڑھی
اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی زبان کا فرمان اتارا ہے۔ اگر آپ نے ان کی خواہشوں کی پیروی کر لی اس کے بعد کہ آپ کے پاس علم آچکا ہے تو اللہ (کے عذابوں) سے آپ کو کوئی حمایتی ملے گا اور نہ بچانے واﻻ.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اِسی ہدایت کے ساتھ ہم نے یہ فرمان عربی تم پر نازل کیا ہے اب اگر تم نے اِس علم کے باوجود جو تمہارے پاس آ چکا ہے لوگوں کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی تمہارا حامی و مددگار ہے اور نہ کوئی اس کی پکڑسے تم کو بچا سکتا ہے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور اسی طرح ہم نے اس کو اتارا ہے عربی میں قول فیصل بنا کر اور (اے نبی !) اگر آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی اس کے بعد کہ آپ کے پاس صحیح علم آچکا ہے تو نہیں ہوگا آپ کے لیے بھی اللہ کی طرف سے نہ کوئی حمایتی اور نہ کوئی بچانے والا
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی زبان کا فرمان اتارا ہے[1] ۔ اگر آپ نے ان کی خواہشوں[2] کی پیروی کر لی اس کے بعد کہ آپ کے پاس علم آچکا ہے[3] تو اللہ (کے عذابوں) سے آپ کو کوئی حمایتی ملے گا اور نہ بچانے واﻻ.[4]
حواشی
[1] یعنی جس طرح آپ سے پہلے رسولوں پر کتابیں مقامی زبانوں میں نازل کیں، اسی طرح آپ پر قرآن ہم نے عربی زبان میں اتارا، اس لئے کہ آپ کے مخاطب اولین اہل عرب ہیں، جو صرف عربی زبان ہی جانتے ہیں۔ اگر قرآن کسی اور زبان میں نازل ہوتا تو ان کی سمجھ سے بالا ہوتا اور قبول ہدایت میں ان کے لئے عذر بن جاتا۔ ہم نے قرآن کو عربی میں اتار کر یہ عذر بھی دور کر دیا۔ [2] اس سے مراد اہل کتاب کی بعض وہ خواہشیں ہیں جو وہ چاہتے تھے کہ پیغمبر آخر الزماں انہیں اختیار کریں۔ مثلاً بیت المقدس کو ہمیشہ کے لئے قبلہ بنائے رکھنا اور ان کے معتقدات کی مخالفت نہ کرنا وغیرہ۔ [3] اس سے مراد علم ہے جو وحی کے ذریعے سے آپ کو عطا کیا گیا، جس میں اہل کتاب کے معتقدات کی حقیقت بھی آپ پر واضح کر دی گئی۔ [4] یہ دراصل امت کے اہل علم کو تنبیہ ہے کہ وہ دنیا کے عارضی مفادات کی خاطر قرآن و حدیث کے واضح احکام کے مقابلے میں لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ لگیں، اگر وہ ایسا کریں گے تو انہیں اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔