سورہ An-Nur — آیت 64

نور · 24:64 · 64/64

أَلَآ إِنَّ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ قَدْ يَعْلَمُ مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ وَيَوْمَ يُرْجَعُونَ إِلَيْهِ فَيُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوا۟ ۗ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌۢ

Ala inna lillahi ma feeassamawati wal-ardi qadyaAAlamu ma antum AAalayhi wayawma yurjaAAoona ilayhifayunabbi-ohum bima AAamiloo wallahubikulli shay-in AAaleem

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

دیکھو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ جس (طریق) پر تم ہو وہ اسے جانتا ہے۔ اور جس روز لوگ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے تو جو لوگ عمل کرتے رہے وہ ان کو بتا دے گا۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

محمد جوناگڑھی

آگاه ہو جاؤ کہ آسمان وزمین میں جو کچھ ہے سب اللہ تعالیٰ ہی کا ہے۔ جس روش پر تم ہو وه اسے بخوبی جانتا ہے، اور جس دن یہ سب اس کی طرف لوٹائے جائیں گے اس دن ان کو ان کے کئے سے وه خبردار کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے واﻻ ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

خبردار رہو، آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا ہے تم جس روش پر بھی ہو اللہ اُس کو جانتا ہے جس روز لوگ اُس کی طرف پلٹیں گے وہ اُنہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کچھ کر کے آئے ہیں وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

آگاہ ہوجاؤ ! یقیناً اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے۔ وہ خوب جانتا ہے تم جس حال پر ہو اور جس دن یہ لوگ لوٹائے جائیں گے اس کی طرف تو وہ انہیں جتلا دے گا جو کچھ بھی عمل انہوں نے کیے ہوں گے اور اللہ ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

آگاه ہو جاؤ کہ آسمان وزمین میں جو کچھ ہے سب اللہ تعالیٰ ہی کا ہے[1] ۔ جس روش پر تم ہو وه اسے بخوبی جانتا ہے[2]، اور جس دن یہ سب اس کی طرف لوٹائے جائیں گے اس دن ان کو ان کے کئے سے وه خبردار کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے واﻻ ہے.

حواشی

[1] خلق کے اعتبار سے بھی، ملک کے اعتبار سے بھی اور ماتحتی کے اعتبار سے بھی۔ وہ جس طرح چاہے تصرف کرے اور جس چیز کا چاہے، حکم دے۔ پس اس کے رسول (صلى الله عليه وسلم) کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیئے، جس کا تقاضا یہ ہے کہ رسول کے کسی حکم کی مخالفت نہ کی جائے اور جس سے اس نے منع کردیا ہے، اس کا ارتکاب نہ کیا جائے۔ اس لئے کہ رسول (صلى الله عليه وسلم) کے بھیجنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے۔ [2] یہ مخالفین رسول (صلى الله عليه وسلم) کو تنیبہ ہے کہ جو کچھ حرکات تم کر رہے ہو، یہ نہ سمجھو کہ وہ اللہ سے مخفی رہ سکتی ہیں۔ اس کے علم میں سب کچھ ہے اور وہ اس کے مطابق قیامت والے دن جزا وسزا دے گا۔