سورہ An-Nur — آیت 59

نور · 24:59 · 59/64

وَإِذَا بَلَغَ ٱلْأَطْفَـٰلُ مِنكُمُ ٱلْحُلُمَ فَلْيَسْتَـْٔذِنُوا۟ كَمَا ٱسْتَـْٔذَنَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمْ ءَايَـٰتِهِۦ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ

Wa-itha balagha al-atfaluminkumu alhuluma falyasta'thinoo kama ista'thanaallatheena min qablihim kathalika yubayyinu Allahulakum ayatihi wallahu AAaleemun hakeem

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور جب تمہارے لڑکے بالغ ہوجائیں تو ان کو بھی اسی طرح اجازت لینی چاہیئے جس طرح ان سے اگلے (یعنی بڑے آدمی) اجازت حاصل کرتے رہے ہیں۔ اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے۔ اور خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے

محمد جوناگڑھی

اور تمہارے بچے (بھی) جب بلوغت کو پہنچ جائیں تو جس طرح ان کے اگلے لوگ اجازت مانگتے ہیں انہیں بھی اجازت مانگ کر آنا چاہیئے، اللہ تعالیٰ تم سے اسی طرح اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی علم وحکمت واﻻ ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور جب تمہارے بچے عقل کی حد کو پہنچ جائیں تو چاہیے کہ اُسی طرح اجازت لیکر آیا کریں جس طرح اُن کے بڑے اجازت لیتے رہے ہیں۔ اِس طرح اللہ اپنی آیات تمہارے سامنے کھولتا ہے، اور وہ علیم و حکیم ہے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور جب تمہارے بچے بلوغت کی عمر کو پہنچ جائیں تو چاہیے کہ وہ بھی اجازت لیں جیسے ان سے پہلے لوگ اجازت لیتے ہیں اس طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیات کی وضاحت کرتا ہے۔ اور اللہ علیم ہے حکیم ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور تمہارے بچے (بھی) جب بلوغت کو پہنچ جائیں تو جس طرح ان کے اگلے لوگ اجازت مانگتے ہیں انہیں بھی اجازت مانگ کر آنا چاہیئے[1] ، اللہ تعالیٰ تم سے اسی طرح اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی علم وحکمت واﻻ ہے.

حواشی

[1] ان بچوں سے مراد احرار بچے ہیں، بلوغت کے بعد ان کا حکم عام مردوں کا سا ہے، اس لئے ان کے لئے ضروری ہے کہ جب بھی کسی کے گھر آئیں تو پہلے اجازت طلب کریں۔