سورہ An-Nur — آیت 40
نور · 24:40 · 40/64
أَوْ كَظُلُمَـٰتٍ فِى بَحْرٍ لُّجِّىٍّ يَغْشَىٰهُ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِۦ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِۦ سَحَابٌ ۚ ظُلُمَـٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ إِذَآ أَخْرَجَ يَدَهُۥ لَمْ يَكَدْ يَرَىٰهَا ۗ وَمَن لَّمْ يَجْعَلِ ٱللَّهُ لَهُۥ نُورًا فَمَا لَهُۥ مِن نُّورٍ
Aw kathulumatin fee bahrinlujjiyyin yaghshahu mawjun min fawqihi mawjun min fawqihisahabun thulumatun baAAduhafawqa baAAdin itha akhraja yadahu lam yakad yarahawaman lam yajAAali Allahu lahu nooran fama lahu minnoor
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
یا (ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے) جیسے دریائے عمیق میں اندھیرے جس پر لہر چڑھی چلی آتی ہو اور اس کے اوپر اور لہر (آرہی ہو) اور اس کے اوپر بادل ہو، غرض اندھیرے ہی اندھیرے ہوں، ایک پر ایک (چھایا ہوا) جب اپنا ہاتھ نکالے تو کچھ نہ دیکھ سکے۔ اور جس کو خدا روشنی نہ دے اس کو (کہیں بھی) روشنی نہیں (مل سکتی)
محمد جوناگڑھی
یا مثل ان اندھیروں کے ہے جو نہایت گہرے سمندر کی تہہ میں ہوں جسے اوپر تلے کی موجوں نے ڈھانﭗ رکھا ہو، پھر اوپر سے بادل چھائے ہوئے ہوں۔ الغرض اندھیریاں ہیں جو اوپر تلے پےدرپے ہیں۔ جب اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی قریب ہے کہ نہ دیکھ سکے، اور (بات یہ ہے کہ) جسے اللہ تعالیٰ ہی نور نہ دے اس کے پاس کوئی روشنی نہیں ہوتی.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
یا پھر اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا، کہ اُوپر ایک موج چھائی ہوئی ہے، اُس پر ایک اور موج، اور اس کے اُوپر بادل، تاریکی مسلّط ہے، آدمی اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی نہ دیکھنے پائے۔ جسے اللہ نُور نہ بخشے اُس کے لیے پھر کوئی نُور نہیں۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
یا بہت گہرے سمندر میں اندھیروں کی مانند اسے ڈھانپ لیتی ہو ایک موج اس کے اوپر ہو ایک اور موج اس کے اوپر ہوں بادل اندھیرے ہی اندھیرے ہیں ایک دوسرے کے اوپر جب وہ اپنا ہاتھ نکالتا ہے تو اسے بھی نہیں دیکھ سکتا اور جس کو اللہ نے ہی کوئی نور عطا نہ کیا ہو تو اس کے لیے کہیں کوئی نور نہیں ہے