سورہ An-Nur — آیت 29

نور · 24:29 · 29/64

لَّيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَدْخُلُوا۟ بُيُوتًا غَيْرَ مَسْكُونَةٍ فِيهَا مَتَـٰعٌ لَّكُمْ ۚ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَكْتُمُونَ

Laysa AAalaykum junahun an tadkhuloobuyootan ghayra maskoonatin feeha mataAAun lakum wallahuyaAAlamu ma tubdoona wama taktumoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

ہاں اگر تم کسی ایسے مکان میں جاؤ جس میں کوئی نہ بستا ہو اور اس میں تمہارا اسباب (رکھا) ہو، تم پر کچھ گناہ نہیں، اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو خدا کو سب معلوم ہے

محمد جوناگڑھی

ہاں غیر آباد گھروں میں جہاں تمہارا کوئی فائده یا اسباب ہو، جانے میں تم پر کوئی گناه نہیں۔ تم جو کچھ بھی ﻇاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

البتہ تمہارے لیے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ ایسے گھروں میں داخل ہو جاوٴ جو کسی کے رہنے کی جگہ نہ ہوں اور جن میں تمہارے فائدے (یا کام)کی کوئی چیز ہو، تم جو کچھ ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ چھپاتے ہو سب کی اللہ کو خبر ہے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اس میں تمہارے لیے کوئی حرج نہیں کہ تم غیر رہائشی گھروں میں (بغیر اجازت) چلے جاؤ جن میں تمہارے لیے کچھ سامان ہو اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

ہاں غیر آباد گھروں میں جہاں تمہارا کوئی فائده یا اسباب ہو، جانے میں تم پر کوئی گناه نہیں[1] ۔ تم جو کچھ بھی ﻇاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے.[2]

حواشی

[1] اس سے مراد کون سے گھر ہیں، جن میں بغیر اجازت لئے داخل ہونے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ گھر ہیں، جو بطور خاص مہمانوں کے لئے الگ تیار یا مخصوص کردیئے گئے ہوں۔ ان میں صاحب خانہ کی پہلی مرتبہ اجازت کافی ہے، بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد سرائے ہیں جو مسافروں کے لئے ہی ہوتی ہیں یا تجارتی گھر ہیں، مَتَاعٌ کے معنی، منفعت کے ہیں یعنی جن میں تمہارا فائدہ ہو۔ [2] اس میں ان لوگوں کے لئے وعید ہے جو دوسروں کے گھروں میں داخل ہوتے وقت مذکورہ آداب کا خیال نہیں رکھتے۔