سورہ An-Nisa — آیت 74

عورت · 4:74 · 74/176

۞ فَلْيُقَـٰتِلْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ٱلَّذِينَ يَشْرُونَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا بِٱلْـَٔاخِرَةِ ۚ وَمَن يُقَـٰتِلْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ فَيُقْتَلْ أَوْ يَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا

Falyuqatil fee sabeeli Allahiallatheena yashroona alhayata addunyabil-akhirati waman yuqatil fee sabeeli Allahifayuqtal aw yaghlib fasawfa nu'teehi ajran AAatheema

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

تو جو لوگ آخرت (کو خریدتے اور اس) کے بدلے دنیا کی زندگی کو بیچنا چاہتے ہیں اُن کو چاہیئے کہ خدا کی راہ میں جنگ کریں اور جو شخص خدا کی راہ میں جنگ کرے اور شہید ہوجائے یا غلبہ پائے ہم عنقریب اس کو بڑا ثواب دیں گے

محمد جوناگڑھی

پس جو لوگ دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے بیچ چکے ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ کی راه میں جہاد کرنا چاہئے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی راه میں جہاد کرتے ہوئے شہادت پا لے یا غالب آجائے، یقیناً ہم اسے بہت بڑا ﺛواب عنایت فرمائیں گے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

(ایسے لوگوں کو معلوم ہوکہ) اللہ کی راہ میں لڑنا چاہیے اُن لوگوں کو جو آخرت کے بدلے دُنیا کی زندگی کو فروخت کردیں، پھر جو اللہ کی راہ میں لڑے گا اور مارا جائے گا یا غالب رہے گا اُسے ضرور ہم اجرِ عظیم عطا کریں گے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

) پس اللہ کی راہ میں قتال کرنا چاہیے ان لوگوں کو جو دنیا کی زندگی کو آخرت کے عوض فروخت کرنے کے لیے تیار ہیں اور جو کوئی بھی اللہ کی راہ میں قتال کرے گا تو خواہ وہ مارا جائے یا غالب ہو ہم اسے (دونوں حالتوں میں) بہت بڑا اجر عطا فرمائیں گے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

پس جو لوگ دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے بیچ چکے ہیں[1] ، انہیں اللہ تعالیٰ کی راه میں جہاد کرنا چاہئے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی راه میں جہاد کرتے ہوئے شہادت پا لے یا غالب آجائے، یقیناً ہم اسے بہت بڑا ﺛواب عنایت فرمائیں گے۔

حواشی

[1] شَرَى يَشْرِي کے معنی بیچنے کے بھی آتے ہیں اور خریدنے کے بھی۔ متن میں پہلا ترجمہ اختیار کیا گیا ہے اس اعتبار سے ”فَلْيُقَاتِلْ“ کا فاعل الَّذِينَ يَشْرُونَ الْحَيَاةَ بنے گا لیکن اگر اس کے معنی خریدنے کے کئے جائیں تو اس صورت میں الَّذِينَ مفعول بنے گا اور فَلْيُقَاتِلْ کا فاعل الْمُؤْمِنُ النَّافِرُ (راہ جہاد میں کوچ کرنے والے مومن) محذوف ہوگا۔ مومن ان لوگوں سے لڑیں جنہوں نے آخرت بیچ کر دنیا خرید لی۔ یعنی جنہوں نے دنیا کو تھوڑے سے مال کی خاطر اپنے دین کو فروخت کر دیا۔ مراد منافقین اور کافرین ہوں گے۔ (ابن کثیر نے یہی مفہوم بیان کیا ہے )