سورہ An-Nisa — آیت 62
عورت · 4:62 · 62/176
فَكَيْفَ إِذَآ أَصَـٰبَتْهُم مُّصِيبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ثُمَّ جَآءُوكَ يَحْلِفُونَ بِٱللَّهِ إِنْ أَرَدْنَآ إِلَّآ إِحْسَـٰنًا وَتَوْفِيقًا
Fakayfa itha asabat-hum museebatunbima qaddamat aydeehim thumma jaooka yahlifoonabillahi in aradna illa ihsananwatawfeeqa
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
تو کیسی (ندامت کی) بات ہے کہ جب ان کے اعمال (کی شامت سے) ان پر کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو تمہارے پاس بھاگے آتے ہیں اور قسمیں کھاتے ہیں کہ والله ہمارا مقصود تو بھلائی اور موافقت تھا
محمد جوناگڑھی
پھر کیا بات ہے کہ جب ان پر ان کے کرتوت کے باعث کوئی مصیبت آپڑتی ہے تو پھر یہ آپ کے پاس آکر اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا اراده تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
پھر اس وقت کیا ہوتا ہے جب اِن کے اپنے ہاتھوں کی لائی ہوئی مصیبت ان پر آ پڑتی ہے؟ اُس وقت یہ تمہارے پاس قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ہم تو صرف بَھلائی چاہتے تھے اور ہماری نیت تو یہ تھی کہ فریقین میں کسی طرح موافقت ہوجائے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
پھر اس وقت کیا ہوا جب ان پر کوئی مصیبت آگئی ان کے اپنے ہاتھوں کے کرتوتوں کی وجہ سے پھر وہ آپ کے پاس آئے اللہ کی قسمیں کھاتے ہوئے کہ ہم تو صرف بھلائی اور موافقت چاہتے تھے