سورہ An-Nisa — آیت 55
عورت · 4:55 · 55/176
فَمِنْهُم مَّنْ ءَامَنَ بِهِۦ وَمِنْهُم مَّن صَدَّ عَنْهُ ۚ وَكَفَىٰ بِجَهَنَّمَ سَعِيرًا
Faminhum man amana bihi waminhum man saddaAAanhu wakafa bijahannama saAAeera
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
پھر لوگوں میں سے کسی نے تو اس کتاب کو مانا اور کوئی اس سے رکا (اور ہٹا) رہا تو نہ ماننے والوں (کے جلانے) کو دوزخ کی جلتی ہوئی آگ کافی ہے
محمد جوناگڑھی
پھر ان میں سے بعض نے تو اس کتاب کو مانا اور بعض اس سے رک گئے، اور جہنم کا جلانا کافی ہے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
مگر ان میں سے کوئی اس پر ایمان لایا اور کوئی اس سے منہ موڑگیا، اور منہ موڑنے والوں کے لیے تو بس جہنّم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
پس ان میں سے وہ بھی ہیں جو اس پر ایمان لے آئے ہیں اور وہ بھی ہیں جو اس سے رک گئے ہیں اور ایسے لوگوں کے لیے تو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
پھر ان میں سے بعض نے تو اس کتاب کو مانا اور بعض اس سے رک گئے[1] ، اور جہنم کا جلانا کافی ہے۔
حواشی
[1] یعنی بنو اسرائیل کو، جو حضرت ابراہیم (عليه السلام) کی ذریت اور آل میں سے ہیں، ہم نے نبوت بھی دی اور بڑی سلطنت وبادشاہی بھی۔ پھر بھی یہود کے یہ سارے لوگ ان پر ایمان نہیں لائے۔ کچھ ایمان لائے اور کچھ نے اعراض کیا۔ مطلب یہ ہے کہ اے محمد! (صلى الله عليه وسلم) اگر یہ آپ کی نبوت پر ایمان نہیں لا رہے ہیں تو کوئی انوکھی بات نہیں ہے، ان کی تو تاریخ ہی نبیوں کی تکذیب سے بھری ہوئی ہے حتیٰ کہ اپنی نسل کے نبیوں پر بھی یہ ایمان نہیں لائے۔ بعض نے ”آمَنَ بِهِ“ میں ”ھا“ کا مرجع نبی (صلى الله عليه وسلم) کو بتلایا ہے یعنی ان یہود میں سے کچھ نبی (صلى الله عليه وسلم) پر ایمان لائے اور کچھ نے انکارکیا۔ ان منکرین نبوت کا انجام جہنم ہے۔