سورہ An-Nisa — آیت 33

عورت · 4:33 · 33/176

وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَٰلِىَ مِمَّا تَرَكَ ٱلْوَٰلِدَانِ وَٱلْأَقْرَبُونَ ۚ وَٱلَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَـٰنُكُمْ فَـَٔاتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ شَهِيدًا

Walikullin jaAAalna mawaliyamimma taraka alwalidani wal-aqraboonawallatheena AAaqadat aymanukum faatoohumnaseebahum inna Allaha kana AAalakulli shay-in shaheeda

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور جو مال ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں تو (حق داروں میں تقسیم کردو کہ) ہم نے ہر ایک کے حقدار مقرر کردیئے ہیں اور جن لوگوں سے تم عہد کرچکے ہو ان کو بھی ان کا حصہ دو بےشک خدا ہر چیز کے سامنے ہے

محمد جوناگڑھی

ماں باپ یا قرابت دار جو چھوڑ مریں اس کے وارث ہم نے ہر شخص کے مقرر کر دیئے ہیں اور جن سے تم نے اپنے ہاتھوں معاہده کیا ہے انہیں ان کا حصہ دو حقیقتاً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر حاضر ہے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور ہم نے ہر اُس ترکے کے حق دار مقرر کردیے ہیں جو والدین اور رشتہ دار چھوڑیں۔ اب رہے وہ لوگ جن سے تمہارے عہدو پیمان ہوں تو ان کا حصّہ انہیں دو، یقیناً اللہ ہر چیز پر نگراں ہے۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور ہر ایک کے لیے ہم نے وارث مقرر کردیے ہیں جو بھی والدین اور رشتہ دار چھوڑیں اور جن کے ساتھ تمہارے عہد و پیمان ہوں تو ان کو ان کا حصہ دو یقیناً اللہ تعالیٰ ہرچیز پر گواہ ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

ماں باپ یا قرابت دار جو چھوڑ مریں اس کے وارث ہم نے ہر شخص کے مقرر کر دیئے ہیں[1] اور جن سے تم نے اپنے ہاتھوں معاہده کیا ہے انہیں ان کا حصہ دو[2] حقیقتاً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر حاضر ہے۔

حواشی

[1] مَوَالِي، مَوْلى کے جمع ہے۔ مولیٰ کے معنی ہیں دوست، آزاد کردہ غلام، چچا زاد، پڑوسی۔ لیکن یہاں اس سے مراد ورثا ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہر مرد عورت جو کچھ چھوڑ جائیں گے، اس کے وارث ان کے ماں باپ اور دیگر قریبی رشتہ دار ہوں گے۔ [2] اس آیت کے محکم یا منسوخ ہونے کے بارے میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ ابن جریر طبری وغیرہ اسے غیر منسوخ (محکم) مانتے ہیں اور أَيْمَانُكُمْ (معاہدہ) سے مراد وہ حلف اور معاہدہ لیتے ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کے لئے اسلام سے قبل دو اشخاص یا دو قبیلوں کے درمیان ہو اور اسلام کے بعد بھی چلا آرہا تھا۔ نَصِيبَهُمْ (حصہ) سے مراد اسی حلف اور معاہدے کی پابندی کے مطابق تعاون وتناصر کا حصہ ہے اور ابن کثیر اور دیگر مفسرین کے نزدیک یہ آیت منسوخ ہے کیونکہ ایمانکم سے ان کے نزدیک وہ معاہدہ ہے جو ہجرت کے بعد ایک انصاری اور مہاجر کے درمیان اخوت کی صورت میں ہوا تھا۔ اس میں ایک مہاجر، انصاری کے مال کا اس کے رشتہ داروں کی بجائے، وارث ہوتا تھا لیکن یہ چونکہ ایک عارضی انتظام تھا، اس لئے پھر ”وَأُولُو الأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ“ ( الانفال: 75 ) رشتے دار اللہ کے حکم کی رو سے ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں نازل فرماکر اسے منسوخ کر دیا گیا۔ اب ”فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُم“ْ سے مراد دوستی ومحبت اور ایک دوسرے کی مدد ہے اور بطور وصیت کچھ دے دینا بھی اس میں شامل ہے۔ موالات عقد، موالات حلف یا موالات اخوت میں اب وراثت کا تصور نہیں ہوگا۔ اہل علم کے ایک گروہ نے اس سے مراد ایسے دو شخصوں کو لیا جن میں سے کم از کم ایک لاوارث ہے۔ اور ایک دوسرے شخص سے یہ طے کرتا ہے کہ میں تمہارا مولی ہوں۔ اگر کوئی جنایت کروں تو میری مدد کرنا اور اگر مارا جاؤں تو میری دیت لے لینا۔ اس لاوارث کی وفات کے بعد اس کا مال مزکورہ شخص لے گا۔ بشرطیکہ واقعتاً اس کا کوئی وارث نہ ہو۔ بعض دوسرے اہل علم نے اس آیت کا ایک اور معنی بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ سے مراد بیوی اور شوہر ہیں اور اس کا عطف الأَقْرَبُونَ پر ہے۔ معنی یہ ہیں کہ ماں باپ نے، قرابت داروں نے اور جن کو تمہارا عہد وپیان آپس میں باندھ چکا ہے (یعنی شوہر یا بیوی) انہوں نے جو کچھ چھوڑا اس کے حقدار یعنی حصے دار ہم نے مقرر کر دیئے ہیں۔ لہٰذا ان حقداروں کو ان کے حصے دو گویا پیچھے آیات میراث میں تفصیلاً جو حصے بیان کئے گئے تھے یہاں اجمالاً ان کی ادائیگی کی تاکید مزید کی گئی ہے۔