سورہ An-Nisa — آیت 24
عورت · 4:24 · 24/176
۞ وَٱلْمُحْصَنَـٰتُ مِنَ ٱلنِّسَآءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَـٰنُكُمْ ۖ كِتَـٰبَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ ۚ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَآءَ ذَٰلِكُمْ أَن تَبْتَغُوا۟ بِأَمْوَٰلِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَـٰفِحِينَ ۚ فَمَا ٱسْتَمْتَعْتُم بِهِۦ مِنْهُنَّ فَـَٔاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَٰضَيْتُم بِهِۦ مِنۢ بَعْدِ ٱلْفَرِيضَةِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا
Walmuhsanatu mina annisa-iilla ma malakat aymanukum kitaba AllahiAAalaykum waohilla lakum ma waraa thalikuman tabtaghoo bi-amwalikum muhsineena ghayra musafiheenafama istamtaAAtum bihi minhunna faatoohunnaojoorahunna fareedatan wala junaha AAalaykumfeema taradaytum bihi min baAAdi alfareedatiinna Allaha kana AAaleeman hakeema
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
اور شوہر والی عورتیں بھی (تم پر حرام ہیں) مگر وہ جو (اسیر ہو کر لونڈیوں کے طور پر) تمہارے قبضے میں آجائیں (یہ حکم) خدا نے تم کو لکھ دیا ہے اور ان (محرمات) کے سوا اور عورتیں تم کو حلال ہیں اس طرح سے کہ مال خرچ کر کے ان سے نکاح کرلو بشرطیکہ (نکاح سے) مقصود عفت قائم رکھنا ہو نہ شہوت رانی تو جن عورتوں سے تم فائدہ حاصل کرو ان کا مہر جو مقرر کیا ہو ادا کردو اور اگر مقرر کرنے کے بعد آپس کی رضامندی سے مہر میں کمی بیشی کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بےشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
محمد جوناگڑھی
اور (حرام کی گئیں) شوہر والی عورتیں مگر وه جو تمہاری ملکیت میں آجائیں، اللہ تعالیٰ نے یہ احکام تم پر فرض کر دیئے ہیں، اور ان عورتوں کے سوا اور عورتیں تمہارے لئے حلال کی گئیں کہ اپنے مال کے مہر سے تم ان سے نکاح کرنا چاہو برے کام سے بچنے کے لئے نہ کہ شہوت رانی کرنے کے لئے، اس لئے جن سے تم فائده اٹھاؤ انہیں ان کا مقرر کیا ہوا مہر دے دو، اور مہر مقرر ہو جانے کے بعد تم آپس کی رضامندی سے جو طے کرلو اس میں تم پر کوئی گناه نہیں، بے شک اللہ تعالیٰ علم واﻻ حکمت واﻻ ہے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں جو کسی دُوسرے کے نکاح میں ہوں (مُحْصَنَات) البتہ ایسی عورتیں اس سے مستثنٰی ہیں جو (جنگ میں) تمہارے ہاتھ آئیں۔ یہ اللہ کا قانون ہے جس کی پابندی تم پر لازم کردی گئی ہے۔اِن کے ما سوا جتنی عورتیں ہیں انہیں اپنے اموال کے ذریعہ سے حاصل کرنا تمہارے لیے حلال کردیا گیا ہے، بشرطیکہ حصارِ نکاح میں اُن کو محفوظ کرو، نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو۔ پھر جو ازدواجی زندگی کا لُطف تم ان سے اُٹھاوٴ اس کے بدلے اُن کے مَہر بطور فرض کے ادا کرو، البتّہ مَہر کی قرار داد ہو جانے کے بعد آپس کی رضامندی سے تمہارے درمیان اگر کوئی سمجھوتہ ہوجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، اللہ علیم اور دانا ہے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور وہ عورتیں (بھی تم پر حرام ہیں) جو کسی اور کے نکاح میں ہوں سوائے اس کے کہ جو تمہاری ملک یمین بن جائیں یہ تم پر اللہ کا لکھا ہوا فریضہ ہے ان کے سوا جو عورتیں ہیں وہ تمہارے لیے حلال ہیں کہ تم اپنے مال کے ذریعے ان کے طالب بنو بشرطیکہ حصار نکاح میں ان کو محفوظ کرو نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو پس جو بھی تم نے ان سے تمتع کیا ہو تو اس کے بدلے ان کے مہر ادا کرو جو مقرر ہوئے تھے البتہ اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ مہر مقرر ہونے کے بعد باہمی رضامندی سے کوئی کمی بیشی کرلو یقیناً اللہ تعالیٰ علیم اور حکیم ہے