سورہ An-Nisa — آیت 16

عورت · 4:16 · 16/176

وَٱلَّذَانِ يَأْتِيَـٰنِهَا مِنكُمْ فَـَٔاذُوهُمَا ۖ فَإِن تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِضُوا۟ عَنْهُمَآ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِيمًا

Wallathani ya'tiyanihaminkum faathoohuma fa-in taba waaslahafaaAAridoo AAanhuma inna Allaha kanatawwaban raheema

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور جو دو مرد تم میں سے بدکاری کریں تو ان کو ایذا دو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نیکوکار ہوجائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو۔ بےشک خدا توبہ قبول کرنے والا (اور) مہربان ہے

محمد جوناگڑھی

تم میں سے جو دو افراد ایسا کام کر لیں انہیں ایذا دو اگر وه توبہ اور اصلاح کر لیں تو ان سے منھ پھیر لو، بے شک اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے واﻻ اور رحم کرنے واﻻ ہے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور تم میں سے جو اس فعل کا ارتکاب کریں اُن دونوں کو تکلیف دو، پھر اگر وہ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کرلیں تو انہیں چھوڑ دو کہ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور جو دونوں تم میں سے اس (بدکاری) کا ارتکاب کریں تو ان دونوں کو ایذا پہنچاؤ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں تو ان کو چھوڑدو یقیناً اللہ تعالیٰ بہت توبہ قبول فرمانے والا اور رحم فرمانے والا ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

تم میں سے جو دو افراد ایسا کام کر لیں[1] انہیں ایذا دو[2] اگر وه توبہ اور اصلاح کر لیں تو ان سے منھ پھیر لو، بے شک اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے واﻻ اور رحم کرنے واﻻ ہے۔

حواشی

[1] بعض نے اس سے اغلام بازی مراد لی ہے یعنی عمل لواطت۔ دو مردوں کا ہی آپس میں بدفعلی کرنا اور بعض نے اس سے باکرہ مرد وعورت مراد لئے ہیں اور اس سے قبل کی آیت کو انہوں نے محصنات یعنی شادی شدہ کے ساتھ خاص کیا ہے اور بعض نے اس تثنیہ کے صیغے سے مرد اور عورت مراد لئے ہیں۔ قطع نظر اس سے کہ وہ باکرہ ہوں یا شادی شدہ۔ ابن جریر طبری نے دوسرے مفہوم یعنی باکرہ (مرد وعورت) کو ترجیح دی ہے۔ اور پہلی آیت میں بیان کردہ سزا کو نبی (صلى الله عليه وسلم) کی بتلائی ہوئی سزا سزائے رجم سے اور اس آیت میں بیان کردہ سزا کو سورۂ نور میں بیان کردہ سو کوڑے کی سزا سے منسوخ قرار دیا ہے۔ (تفسیر طبری) [2] یعنی زبان سے زجرو توبیخ اور ملامت یا ہاتھ سے کچھ زدو کوب کر لینا۔ اب یہ منسوخ ہے، جیسا کہ گزرا۔