سورہ An-Naml — آیت 60

چیونٹی · 27:60 · 60/93

أَمَّنْ خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَأَنزَلَ لَكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءً فَأَنۢبَتْنَا بِهِۦ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَّا كَانَ لَكُمْ أَن تُنۢبِتُوا۟ شَجَرَهَآ ۗ أَءِلَـٰهٌ مَّعَ ٱللَّهِ ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ

Amman khalaqa assamawatiwal-arda waanzala lakum mina assama-imaan faanbatna bihi hada-iqa thatabahjatin ma kana lakum an tunbitoo shajarahaa-ilahun maAAa Allahi bal hum qawmun yaAAdiloon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

بھلا کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور (کس نے) تمہارے لئے آسمان سے پانی برسایا۔ (ہم نے) پھر ہم ہی نے اس سے سرسبز باغ اُگائے۔ تمہارا کام تو نہ تھا کہ تم اُن کے درختوں کو اگاتے۔ تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہے؟ (ہرگز نہیں) بلکہ یہ لوگ رستے سے الگ ہو رہے ہیں

محمد جوناگڑھی

بھلا بتاؤ تو؟ کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟ کس نے آسمان سے بارش برسائی؟ پھر اس سے ہرے بھرے بارونق باغات اگا دیئے؟ ان باغوں کے درختوں کو تم ہر گز نہ اگا سکتے، کیا اللہ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بلکہ یہ لوگ ہٹ جاتے ہیں (سیدھی راه سے).

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

بھَلا وہ کون ہے جس نےآسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمہارے لیے آسمان سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعہ سے وہ خوشنما باغ اُگائے جن کے درختوں کا اُگانا تمہارے بس میں نہ تھا؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دُوسرا خدا بھی (اِن کاموں میں شریک)ہے؟ (نہیں)، بلکہ یہی لوگ راہِ راست سے ہٹ کر چلے جا رہے ہیں

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

بھلا کون ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور آسمان سے تمہارے لیے پانی اتارا پھر اس کے ذریعے سے ہم نے ُ پررونق باغات اگائے تمہارے لیے ممکن نہیں تھا کہ ان کے درختوں کو خود اگا سکتے کیا کوئی اور معبود بھی ہے اللہ کے ساتھ بلکہ یہ ایسے لوگ ہیں جو (حق سے) انحراف کر رہے ہیں

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

بھلا بتاؤ تو؟ کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟ کس نے آسمان سے بارش برسائی؟ پھر اس سے ہرے بھرے بارونق باغات اگا دیئے؟ ان باغوں کے درختوں کو تم ہر گز نہ اگا سکتے[1] ، کیا اللہ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے[2]؟ بلکہ یہ لوگ ہٹ جاتے ہیں[3] (سیدھی راه سے).

حواشی

[1] یہاں سے پچھلے جملے کی تشریح اور اس کے دلائل جارہے ہیں کہ وہی اللہ پیدائش ، رزق اور تدبیر وغیرہ میں متفرد ہے۔ کوئی اس کا شریک نہیں ہے۔ فرمایا آسمانوں کو اتنی بلندی اور خوبصورتی کے ساتھ بنانے والا، ان میں درخشاں کواکب، روشن ستارے اور گردش کرنے والے افلاک بنانے والا۔ اسی طرح زمین اور اس میں پہاڑ، نہریں، چشمے، سمندر، اشجار کھیتیاں اور انواع واقسام کے طیور و حیوانات وغیرہ پیدا کرنے والا اور آسمان سے بارش برسا کر اس کے ذریعے سے بارونق باغات اگانے والا کون ہے؟ کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جو زمین سے درخت ہی اگا کر دکھا دے؟ ان سب کے جواب میں مشرکین بھی کہتے اور اعتراف کرتے تھے کہ یہ سب کچھ کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے، جیسا کہ قرآن میں دوسرے مقام پر ہے۔ (مثلاً سورۃ العنکبوت۔63)۔ [2] یعنی ان سب حقیقتوں کے باوجود کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی ہستی ایسی ہے، جو عبادت کے لائق ہو؟ یا جس نے ان میں سے کسی چیز کو پیدا کیا ہو؟ یعنی کوئی ایسا نہیں جس نے کچھ بنایا ہو یا عبادت کے لائق ہو۔ أمن کا ان آیات میں مفہوم یہ ہے کہ کیا وہ ذات جو ان تمام چیزوں کو بنانے والی ہے، اس شخص کی طرح ہے جو ان میں سے کسی چیز پر قادر نہیں؟ (ابن کثیر)۔ [3] اس کا دوسرا ترجمہ ہے کہ وہ لوگ اللہ کا ہمسر اور نظیر ٹھہراتے ہیں۔