سورہ An-Nahl — آیت 9

شہد کی مکھی · 16:9 · 9/128

وَعَلَى ٱللَّهِ قَصْدُ ٱلسَّبِيلِ وَمِنْهَا جَآئِرٌ ۚ وَلَوْ شَآءَ لَهَدَىٰكُمْ أَجْمَعِينَ

WaAAala Allahi qasdu assabeeliwaminha ja-irun walaw shaa lahadakumajmaAAeen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور سیدھا رستہ تو خدا تک جا پہنچتا ہے۔ اور بعض رستے ٹیڑھے ہیں (وہ اس تک نہیں پہنچتے) اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو سیدھے رستے پر چلا دیتا

محمد جوناگڑھی

اور اللہ پر سیدھی راه کا بتا دینا ہے اور بعض ٹیڑھی راہیں ہیں، اور اگر وه چاہتا تو تم سب کو راه راست پر لگا دیتا.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور اللہ ہی کے ذمّہ ہے سیدھا راستہ بتانا جب کہ راستے ٹیڑھے بھی موجود ہیں۔ اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور اللہ تک پہنچانے والا سیدھا راستہ ہے اور ان میں کچھ ٹیڑھے بھی ہیں اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور اللہ پر سیدھی راه کا بتا دینا ہے[1] اور بعض ٹیڑھی راہیں ہیں، اور اگر وه چاہتا تو تم سب کو راه راست پر لگا دیتا.[2]

حواشی

[1] اس کے ایک دوسرے معنی ہیں ”اور اللہ ہی پر ہے سیدھی راہ“ یعنی اس کا بیان کرنا۔ چنانچہ اس نے اسے بیان فرما دیا اور ہدایت اور ضلالت دونوں کو واضح کر دیا، اسی لئے آگے فرمایا کہ بعض راہیں ٹیڑھی ہیں یعنی گمراہی کی ہیں۔ [2] لیکن اس میں چوں کہ جبر ہوتا اور انسان کی آزمائش نہیں ہوتی، اس لئے اللہ نے اپنی مشیت سے سب کو مجبور نہیں کیا، بلکہ دونوں راستوں کی نشاندہی کر کے، انسان کو ارادہ و اختیار کی آزادی دی ہے۔