سورہ An-Nahl — آیت 76

شہد کی مکھی · 16:76 · 76/128

وَضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًا رَّجُلَيْنِ أَحَدُهُمَآ أَبْكَمُ لَا يَقْدِرُ عَلَىٰ شَىْءٍ وَهُوَ كَلٌّ عَلَىٰ مَوْلَىٰهُ أَيْنَمَا يُوَجِّههُّ لَا يَأْتِ بِخَيْرٍ ۖ هَلْ يَسْتَوِى هُوَ وَمَن يَأْمُرُ بِٱلْعَدْلِ ۙ وَهُوَ عَلَىٰ صِرَٰطٍ مُّسْتَقِيمٍ

Wadaraba Allahu mathalanrajulayni ahaduhuma abkamu la yaqdiru AAalashay-in wahuwa kallun AAala mawlahu aynamayuwajjihhu la ya'ti bikhayrin hal yastawee huwa wamanya'muru bilAAadli wahuwa AAala siratinmustaqeem

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

اور خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ دو آدمی ہیں ایک اُن میں سے گونگا (اور دوسرے کی ملک) ہے (بےاختیار وناتوان) کہ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا۔ اور اپنے مالک کو دوبھر ہو رہا ہے وہ جہاں اُسے بھیجتا ہے (خیر سے کبھی) بھلائی نہیں لاتا۔ کیا ایسا (گونگا بہرا) اور وہ شخص جو (سنتا بولتا اور) لوگوں کو انصاف کرنے کا حکم دیتا ہے اور خود سیدھے راستے پر چل رہا ہے دونوں برابر ہیں؟

محمد جوناگڑھی

اللہ تعالیٰ ایک اور مثال بیان فرماتا ہے، دو شخصوں کی، جن میں سے ایک تو گونگا ہے اور کسی چیز پر اختیار نہیں رکھتا بلکہ وه اپنے مالک پر بوجھ ہے کہیں بھی اسے بھیجے وه کوئی بھلائی نہیں ﻻتا، کیا یہ اور وه جو عدل کا حکم دیتا ہے اور ہے بھی سیدھی راه پر، برابر ہوسکتے ہیں؟

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اللہ ایک اور مثال دیتا ہے۔ دو آدمی ہیں۔ ایک گونگا بہرا ہے ، کوئی کام نہیں کر سکتا ، اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے، جدھر بھی وہ اسے بھیجے کوئی بھلا کام اُس سے بن نہ آئے۔ دُوسرا شخص ایسا ہے کہ انصاف کا حکم دیتا ہے اور خود راہِ راست پر قائم ہے۔ بتاوٴ کیا یہ دونوں یکساں ہیں؟

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور اللہ نے (اب ایک اور) مثال بیان کی دو اشخاص کی ان میں سے ایک گونگا ہے وہ قدرت نہیں رکھتا کسی بھی چیز پر اور وہ اپنے آقا پر بوجھ ہے جہاں کہیں بھی وہ (آقا) اسے بھیجتا ہے وہ کوئی خیر لے کر نہیں آتا کیا برابر ہوگا وہ اور وہ جو حکم دیتا ہے عدل کا اور وہ سیدھی راہ پر قائم ہے