سورہ An-Nahl — آیت 56
شہد کی مکھی · 16:56 · 56/128
وَيَجْعَلُونَ لِمَا لَا يَعْلَمُونَ نَصِيبًا مِّمَّا رَزَقْنَـٰهُمْ ۗ تَٱللَّهِ لَتُسْـَٔلُنَّ عَمَّا كُنتُمْ تَفْتَرُونَ
WayajAAaloona lima layaAAlamoona naseeban mimma razaqnahum tallahilatus-alunna AAamma kuntum taftaroon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور ہمارے دیئے ہوئے مال میں سے ایسی چیزوں کا حصہ مقرر کرتے ہیں جن کو جانتے ہی نہیں۔ (کافرو) خدا کی قسم کہ جو تم افتراء کرتے ہو اس کی تم سے ضرور پرسش ہوگی
محمد جوناگڑھی
اور جسے جانتے بوجھتے بھی نہیں اس کا حصہ ہماری دی ہوئی روزی میں سے مقرر کرتے ہیں، واللہ تمہارے اس بہتان کا سوال تم سے ضرور ہی کیا جائے گا.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
یہ لوگ جن کی حقیقت سے واقف نہیں ہیں اُن کے حصے ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے مقرر کرتے ہیں۔۔۔۔ خدا کی قسم، ضرور تم سے پوچھا جائے گا کہ یہ جھُوٹ تم نے کیسے گھڑ لیے تھے؟
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور وہ بنا دیتے ہیں ان کے لیے جن کے بارے میں انہیں کوئی علم ہی نہیں ایک حصہ اس میں سے جو رزق ہم نے انہیں دیا ہے اللہ کی قسم ! ضرور سوال کیا جائے گا تم سے اس بارے میں جو افترا تم لوگ کرتے تھے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اور جسے جانتے بوجھتے بھی نہیں اس کا حصہ ہماری دی ہوئی روزی میں سے مقرر کرتے ہیں[1] ، واللہ تمہارے اس بہتان کا سوال تم سے ضرور ہی کیا جائے گا.[2]
حواشی
[1] یعنی جن کو یہ حاجت روا، مشکل کشا اور معبود سمجھتے ہیں، وہ پتھر کی مورتیاں ہیں یا جنات وشیاطین ہیں، جن کی حقیقت کا ان کو علم ہی نہیں۔ اسی طرح قبروں میں مدفون لوگوں کی حقیقت بھی کوئی نہیں جانتا کہ ان کے ساتھ وہاں کیا معاملہ ہو رہا ہے؟ وہ اللہ کے پسندیدہ افراد میں ہیں یا کسی دوسری فہرست میں؟ ان باتوں کو کوئی نہیں جانتا لیکن ان ظالم لوگوں نے ان کی حقیقت سے ناآشنا ہونے کے باوجود، انہیں اللہ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے اور اللہ کے دئیے ہوئے مال میں سے ان کے لیے بھی (نذر ونیاز کے طور پر) حصہ مقرر کرتے ہیں بلکہ اللہ کا حصہ رہ جائے تو بیشک رہ جائے ان کے حصے میں کمی نہیں کرتے جیسا کہ سورۃ الانعام:136 میں بیان کیا گیا ہے۔ [2] تم جو اللہ پر افترا کرتے ہو کہ اس کا شریک یا شرکا ہیں، اس کی بابت قیامت والے دن تم سے پوچھا جائے گا۔