سورہ Ali 'Imran — آیت 30
عمران کا خاندان · 3:30 · 30/200
يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِن سُوٓءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُۥٓ أَمَدًۢا بَعِيدًا ۗ وَيُحَذِّرُكُمُ ٱللَّهُ نَفْسَهُۥ ۗ وَٱللَّهُ رَءُوفٌۢ بِٱلْعِبَادِ
Yawma tajidu kullu nafsin ma AAamilatmin khayrin muhdaran wama AAamilat min soo-intawaddu law anna baynaha wabaynahu amadan baAAeedan wayuhaththirukumuAllahu nafsahu wallahu raoofun bilAAibad
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
جس دن ہر شخص اپنے اعمال کی نیکی کو موجود پالے گا اور ان کی برائی کو بھی (دیکھ لے گا) تو آرزو کرے گا کہ اے کاش اس میں اور اس برائی میں دور کی مسافت ہو جاتی اور خدا تم کو اپنے (غضب) سے ڈراتا ہے اور خدا اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے
محمد جوناگڑھی
جس دن ہر نفس (شخص) اپنی کی ہوئی نیکیوں کو اور اپنی کی ہوئی برائیوں کو موجود پالے گا، آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور برائیوں کے درمیان بہت ہی دوری ہوتی۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
وہ دن آنے والا ہے، جب ہر نفس اپنے کیے کا پھل حاضر پائے گا خواہ اُس نے بھلائی کی ہو یا بُرائی۔ اس روز آدمی یہ تمنا کرے گا کہ کاش ابھی یہ دن اس سے بہت دُور ہوتا! اللہ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور وہ اپنے بندوں کا نہایت خیر خواہ ہے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
(اس دن کا تصور کرو) جس دن ہر جان اپنے سامنے موجود پائے گی ہر نیکی جو اس نے کی ہوگی اور ہر برائی جو اس نے کمائی ہوگی اور (ہر جان) یہ چاہے گی کہ کاش اس کے اور اس (کے نامۂ اعمال) کے درمیان ایک زمانۂ دراز حائل ہوتا اور اللہ ڈرا رہا ہے تمہیں اپنے آپ سے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حق میں بہت شفیق ہے