سورہ Ali 'Imran — آیت 24
عمران کا خاندان · 3:24 · 24/200
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا۟ لَن تَمَسَّنَا ٱلنَّارُ إِلَّآ أَيَّامًا مَّعْدُودَٰتٍ ۖ وَغَرَّهُمْ فِى دِينِهِم مَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ
Thalika bi-annahum qaloo lantamassana annaru illa ayyamanmaAAdoodatin wagharrahum fee deenihim ma kanooyaftaroon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
یہ اس لیے کہ یہ اس بات کے قائل ہیں کہ (دوزخ کی) آگ ہمیں چند روز کے سوا چھو ہی نہیں سکے گی اور جو کچھ یہ دین کے بارے میں بہتان باندھتے رہے ہیں اس نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے
محمد جوناگڑھی
اس کی وجہ ان کا یہ کہنا کہ ہمیں تو گنے چنے چند دن ہی آگ جلائے گی، ان کی گڑھی گڑھائی باتوں نے انہیں ان کے دین کے بارے میں دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
ان کا یہ طرز عمل اس وجہ سے ہے کہ وہ کہتے ہیں ”آتش ِ دوزخ تو ہمیں مَس تک نہ کرے گی اور اگر دوزخ کی سزا ہم کو ملے گی بھی تو بس چند روز“۔ اُن کے خود ساختہ عقیدوں نے اُن کو اپنے دین کے معاملے میں بڑی غلط فہمیوں میں ڈال رکھا ہے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
یہ اس وجہ سے ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں تو جہنم کی آگ چھو ہی نہیں سکتی مگر گنتی کے چند دن اور انہیں دھوکے میں مبتلا کردیا ہے ان کے دین کے بارے میں ان چیزوں نے جو یہ گھڑتے رہے ہیں۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اس کی وجہ ان کا یہ کہنا کہ ہمیں تو گنے چنے چند دن ہی آگ جلائے گی، ان کی گڑھی گڑھائی باتوں نے انہیں ان کے دین کے بارے میں دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔[1]
حواشی
[1] یعنی کتاب اللہ کے ماننے سے گریز واعراض کی وجہ ان کایہ زعم باطل ہے کہ اول تووہ جہنم میں جائیں گے ہی نہیں، اوراگرگئے بھی تو صرف چند دن ہی کے لئے جائیں گے۔ اور انہی من گھڑت باتوں نے انہیں دھوکےاور فریب میں ڈال رکھا ہے۔