سورہ Ali 'Imran — آیت 188
عمران کا خاندان · 3:188 · 188/200
لَا تَحْسَبَنَّ ٱلَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَآ أَتَوا۟ وَّيُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُوا۟ بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا۟ فَلَا تَحْسَبَنَّهُم بِمَفَازَةٍ مِّنَ ٱلْعَذَابِ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
La tahsabanna allatheenayafrahoona bima ataw wayuhibboona an yuhmadoobima lam yafAAaloo fala tahsabannahum bimafazatinmina alAAathabi walahum AAathabun aleem
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
جو لوگ اپنے (ناپسند) کاموں سے خوش ہوتے ہیں اور پسندیدہ کام) جو کرتے نہیں ان کے لئے چاہتے ہیں کہ ان ک تعریف کی جائے ان کی نسبت خیال نہ کرنا کہ وہ عذاب سے رستگار ہوجائیں گے۔ اور انہیں درد دینے والا عذاب ہوگا
محمد جوناگڑھی
وه لوگ جو اپنے کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو انہوں نے نہیں کیا اس پر بھی ان کی تعریفیں کی جائیں آپ انہیں عذاب سے چھٹکارا میں نہ سمجھئے ان کے لئے تو دردناک عذاب ہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
تم ان لوگوں کو عذاب سے محفوظ نہ سمجھو جو اپنے کرتُوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایسے کاموں کی تعریف انھیں حاصل ہو جوفی الواقع انہوں نےنہیں کیے ہیں۔ حقیقت میں ان کے لیے درد ناک سزا تیار ہے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
آپ ان کے بارے میں خیال نہ کریں جو اپنے کیے پر خوش ہوتے ہیں اور (اس سے بھی بڑھ کر) چاہتے ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے ایسے کاموں پر جو انہوں نے کیے ہی نہیں اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
وه لوگ جو اپنے کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو انہوں نے نہیں کیا اس پر بھی ان کی تعریفیں کی جائیں آپ انہیں عذاب سے چھٹکارا میں نہ سمجھئے ان کے لئے تو دردناک عذاب ہے.[1]
حواشی
[1] اس میں ایسے لوگوں کے لئے سخت وعید ہے جو صرف اپنے واقعی کارناموں پر ہی خوش نہیں ہوتے بلکہ چاہتے ہیں کہ ان کے کھاتے میں وہ کارنامے بھی درج یا ظاہر کئے جائیں جو انہوں نے نہیں کئے ہوتے۔ یہ بیماری جس طرح عہدرسالت کے بعض لوگوں میں تھی جس کے پیش نظر آیات کا نزول ہوا۔ اسی طرح آج بھی جاہ پسند قسم کے لوگوں اور پروپیگنڈے اور دیگر ہتھکنڈوں کے ذریعے سے بننے والے لیڈروں میں یہ بیماری عام ہے۔أَعَاذَنَا اللهُ۔ آیت کے سباق سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہودی کتاب الٰہی میں تحریف وکتمان کے مجرم تھے، مگر وہ اپنے ان کرتوتوں پر خوش ہوتے تھے، یہی حال آج کے باطل گروہوں کا بھی ہے، وہ بھی لوگوں کو گمراہ کرکے ، غلط رہنمائی کرکے آیات الٰہی میں معنوی تحریف وتلبیس کرکے بڑے خوش ہوتے ہیں اور دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ وہ اہل حق ہیں اور یہ کہ ان کے دجل وفریب کاری کی انہیں داد دی جائے۔قَاتَلَهُمُ اللهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ