سورہ Ali 'Imran — آیت 181

عمران کا خاندان · 3:181 · 181/200

لَّقَدْ سَمِعَ ٱللَّهُ قَوْلَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَآءُ ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوا۟ وَقَتْلَهُمُ ٱلْأَنۢبِيَآءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَنَقُولُ ذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلْحَرِيقِ

Laqad samiAAa Allahu qawla allatheenaqaloo inna Allaha faqeerun wanahnu aghniyaonsanaktubu ma qaloo waqatlahumu al-anbiyaabighayri haqqin wanaqoolu thooqoo AAathabaalhareeq

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

خدا نے ان لوگوں کا قول سن لیا ہے جو کہتے ہیں کہ خدا فقیر ہے۔ اور ہم امیر ہیں۔ یہ جو کہتے ہیں ہم اس کو لکھ لیں گے۔ اور پیغمبروں کو جو یہ ناحق قتل کرتے رہے ہیں اس کو بھی (قلمبند کر رکھیں گے) اور (قیامت کے روز) کہیں گے کہ عذاب (آتش) سوزاں کے مزے چکھتے رہو

محمد جوناگڑھی

یقیناً اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا قول بھی سنا جنہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فقیر ہے اور ہم تونگر ہیں ان کے اس قول کو ہم لکھ لیں گے۔ اور ان کا انبیا کو بلا وجہ قتل کرنا بھی، اور ہم ان سے کہیں گے کہ جلنے واﻻ عذاب چکھو!

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اللہ نےان لوگوں کاقول سنا جو کہتے ہیں کہ اللہ فقیرہے اور ہم غنی ہیں۔ ان کی یہ باتیں بھی ہم لکھ لیں گے ، اور اس سے پہلے جو وہ پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں وہ بھی ان کے نامہٴ اعمال میں ثبت ہے۔ ( جب فیصلہ کا وقت آئےگا اس وقت) ہم ان سے کہیں گے کہ لو، اب عذاب جہنم کا مزا چکھو

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اللہ نے سن لیا ہے قول ان لوگوں کا جنہوں نے کہا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں ہم لکھ رکھیں گے جو کچھ انہوں نے کہا ہے اور ان کے ناحق قتل انبیاء کو بھی (لکھ رکھیں گے) اور ہم کہیں گے اب چکھو مزا اس جلا دینے والی آگ کے عذاب کا

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

یقیناً اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا قول بھی سنا جنہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فقیر ہے اور ہم تونگر ہیں[1] ان کے اس قول کو ہم لکھ لیں گے۔ اور ان کا انبیا کو بلا وجہ قتل کرنا بھی[2]، اور ہم ان سے کہیں گے کہ جلنے واﻻ عذاب چکھو!

حواشی

[1] جب اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دی اور فرمایا «مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا»( البقرۃ: 245) ”کون ہے جو اللہ کو قرض حسن دے“، تو یہود نے کہا اے محمد ج! تیرا رب فقیر ہوگیا ہے کہ اپنے بندوں سے قرض مانگ رہا ہے؟ جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (ابن کثیر) [2] یعنی مذکورہ قول جس میں اللہ کی شان میں گستاخی ہے اور اسی طرح ان کے (اسلاف) کا انبیاء ﻹ کو ناحق قتل کرنا، ان کے یہ سارے جرائم اللہ کی بارگاہ میں درج ہیں، جن پر وہ جہنم کی آگ میں داخل ہوں گے۔ٍ