سورہ Ali 'Imran — آیت 130
عمران کا خاندان · 3:130 · 130/200
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَأْكُلُوا۟ ٱلرِّبَوٰٓا۟ أَضْعَـٰفًا مُّضَـٰعَفَةً ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
Ya ayyuha allatheena amanoola ta'kuloo arriba adAAafanmudaAAafatan wattaqoo Allaha laAAallakumtuflihoon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اےایمان والو! دگنا چوگنا سود نہ کھاؤ اور خدا سے ڈرو تاکہ نجات حاصل کرو
محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! بڑھا چڑھا کر سود نہ کھاؤ، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو تاکہ تمہیں نجات ملے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اے لوگو جو ایما ن لائے ہو ، یہ بڑھتا اور چڑھتا سُود کھانا چھوڑ دو اور اللہ سے ڈرو، امید ہے کہ فلاح پاؤ گے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اے اہل ایمان ! سود مت کھاؤ دگنا چوگنا بڑھتا ہوا اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم فلاح پاؤ
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اے ایمان والو! بڑھا چڑھا کر سود نہ کھاؤ[1] ، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو تاکہ تمہیں نجات ملے.
حواشی
[1] چونکہ غزوہ احد میں ناکامی رسول (صلى الله عليه وسلم) کی نافرمانی اور مال دنیا کے لالچ کے سبب ہوئی تھی اس لئے اب طمع دنیا کی سب سے زیادہ بھیانک اور مستقل شکل سود سے منع کیا جا رہا ہے اور اطاعت کیشی کی تاکید کی جا رہی ہےاور بڑھا چڑھا کر سود نہ کھاؤکا یہ مطلب نہیں بڑھا چڑھا کر نہ ہو تو مطلق سود جائز ہے۔ بلکہ سود کم ہو یا زیادہ مفرد ہو یا مرکب، مطلقاً حرام ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ یہ قید نہی (حرمت) کے لئے بطور شرط نہیں ہے بلکہ واقعے کی رعایت کے طور پر یعنی سود کی اس وقت جو صورتحال تھی، اس کا بیان واظہار ہے۔ زمانہ جاہلیت میں سود کا یہ رواج عام تھا کہ جب ادائیگی کی مدت آجاتی اور ادائیگی ممکن نہ ہوتی تو مزید مدت میں اضافے کے ساتھ سود میں بھی اضافہ ہوتا چلا جاتا جس کی وجہ سے تھوڑی سی رقم بڑھ چڑھ کر کہیں پہنچ جاتی اور ایک عام آدمی کے لئے اس کی ادائیگی ناممکن ہو جاتی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ سے درو اور اس آگ سے درو جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے جس سے تنبیہ بھی مقصود ہے کہ سود خوری سے باز نہ آئے تو یہ فعل حرام تمہیں کفر تک پہنچا سکتاہے،کیونکہ یہ اللہ ورسول سے محاربہ ہے۔