سورہ Ali 'Imran — آیت 13

عمران کا خاندان · 3:13 · 13/200

قَدْ كَانَ لَكُمْ ءَايَةٌ فِى فِئَتَيْنِ ٱلْتَقَتَا ۖ فِئَةٌ تُقَـٰتِلُ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَأُخْرَىٰ كَافِرَةٌ يَرَوْنَهُم مِّثْلَيْهِمْ رَأْىَ ٱلْعَيْنِ ۚ وَٱللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِۦ مَن يَشَآءُ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّأُو۟لِى ٱلْأَبْصَـٰرِ

Qad kana lakum ayatun feefi-atayni iltaqata fi-atun tuqatilu fee sabeeli Allahiwaokhra kafiratun yarawnahum mithlayhim ra'yaalAAayni wallahu yu-ayyidu binasrihi manyashao inna fee thalika laAAibratan li-olee al-absar

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

تمہارے لیے دو گروہوں میں جو (جنگ بدر کے دن) آپس میں بھڑ گئے (قدرت خدا کی عظیم الشان) نشانی تھی ایک گروہ (مسلمانوں کا تھا وہ) خدا کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ (کافروں کا تھا وہ) ان کو اپنی آنکھوں سے اپنے سے دگنا مشاہدہ کر رہا تھا اور خدا اپنی نصرت سے جس کو چاہتا ہے مدد دیتا ہے جو اہل بصارت ہیں ان کے لیے اس (واقعے) میں بڑی عبرت ہے

محمد جوناگڑھی

یقیناً تمہارے لئے عبرت کی نشانی تھی ان دو جماعتوں میں جو گتھ گئی تھیں، ایک جماعت تو اللہ تعالیٰ کی راه میں لڑ رہی تھی اور دوسرا گروه کافروں کا تھا وه انہیں اپنی آنکھوں سے اپنے سے دگنا دیکھتے تھے اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنی مدد سے قوی کرتا ہے۔ یقیناً اس میں آنکھوں والوں کے لئے بڑی عبرت ہے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

تمہارے لیے اُن دو گروہوں میں ایک نشان عبرت تھا، جو ( بدر میں) ایک دوسرے سے نبرد آزما ہو ئے۔ ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دُوسرا گروہ کافر تھا۔ دیکھنے والے بچشمِ سر دیکھ رہے تھے کہ کافر گروہ مومن گروہ سے دو چند ہے۔ مگر (نتیجے نے ثابت کردیا کہ) اللہ اپنی فتح و نصرت سے جس کی چاہتا ہے، مدد کر دیتا ہے۔ دیدۂ بینا رکھنے والوں کے لیے اس میں بڑا سبق پوشیدہ ہے۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

تمہارے لیے ایک نشانی آچکی ہے ان دو گروہوں میں جنہوں نے آپس میں جنگ کی ایک گروہ اللہ کی راہ میں جنگ کر رہا تھا اور دوسرا کافر تھا وہ انہیں دیکھ رہے تھے اپنی آنکھوں سے کہ ان سے دوگنے ہیں اور اللہ تعالیٰ تائید فرماتا ہے اپنی نصرت سے جس کی چاہتا ہے اس میں یقیناً ایک عبرت ہے آنکھیں رکھنے والوں کے لیے