سورہ Ali 'Imran — آیت 128

عمران کا خاندان · 3:128 · 128/200

لَيْسَ لَكَ مِنَ ٱلْأَمْرِ شَىْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَـٰلِمُونَ

Laysa laka mina al-amri shay-on aw yatoobaAAalayhim aw yuAAaththibahum fa-innahum thalimoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

(اے پیغمبر) اس کام میں تمہارا کچھ اختیار نہیں (اب دو صورتیں ہیں) یا خدا انکے حال پر مہربانی کرے یا انہیں عذاب دے کہ یہ ظالم لوگ ہیں

محمد جوناگڑھی

اے پیغمبر! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں، اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی توبہ قبول کرے یا عذاب دے، کیونکہ وه ﻇالم ہیں.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

(اے پیغمبرؐ) فیصلہ کے اختیارات میں تمہارا کوئی حصہ نہیں، اللہ کو اختیار ہے چاہے انہیں معاف کرے، چاہے سزا دے کیونکہ وہ ظالم ہیں

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

(اے نبی ﷺ اس معاملے میں آپ کو کوئی اختیار نہیں اللہ ان کی توبہ قبول کرے یا انہیں عذاب دے اس لیے کہ وہ ظالم ہیں

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اے پیغمبر! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں[1] ، اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی توبہ قبول کرے[2] یا عذاب دے، کیونکہ وه ﻇالم ہیں.

حواشی

[1] یعنی ان کافروں کو ہدایت دینا یا ان کے معاملے میں کسی بھی قسم کا فیصلہ کرنا سب اللہ کے اختیار میں ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ جنگ احد میں نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کے دندان مبارک بھی شہید ہوگئے اور چہرہ مبارک بھی زخمی ہوا تو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”وہ قوم کس طرح فلاح یاب ہوگی جس نے اپنے نبی کو زخمی کر دیا“، گویا آپ (صلى الله عليه وسلم) نے ان کی ہدایت سے ناامیدی ظاہر فرمائی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اسی طرح بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے بعض کفار کے لئے قنوت نازلہ کا بھی اہتمام فرمایا جس میں ان کے لئے بددعا فرمائی جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی،چنانچہ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے بددعا کا سلسلہ بند فرما دیا۔ (ابن کثیر وفتح القدیر) اس آیت سے ان لوگوں کو عبرت پکڑنی چاہیئے جو نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کو مختار کل قراردیتے ہیں کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کو تو اتنا اختیار بھی نہ تھا کہ کسی کو راہ راست پر لگا دیں حالانکہ آپ (صلى الله عليه وسلم) اسی راستے کی طرف بلانے کے لئے بھیجے گئے تھے۔ [2] یہ قبیلےجن کے لئے بددعا فرماتے رہے اللہ کی توفیق سے سب مسلمان ہوگئے۔ جن سے معلوم ہوا کہ مختار کل اور عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔