سورہ Al-Qasas — آیت 83
قصے · 28:83 · 83/88
تِلْكَ ٱلدَّارُ ٱلْـَٔاخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا ۚ وَٱلْعَـٰقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ
Tilka addaru al-akhiratunajAAaluha lillatheena la yureedoonaAAuluwwan fee al-ardi wala fasadan walAAaqibatulilmuttaqeen
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
وہ (جو) آخرت کا گھر (ہے) ہم نے اُسے اُن لوگوں کے لئے (تیار) کر رکھا ہے جو ملک میں ظلم اور فساد کا ارادہ نہیں رکھتے اور انجام (نیک) تو پرہیزگاروں ہی کا ہے
محمد جوناگڑھی
آخرت کا یہ بھلا گھر ہم ان ہی کے لیے مقرر کر دیتے ہیں جو زمین میں اونچائی بڑائی اور فخر نہیں کرتے نہ فساد کی چاہت رکھتے ہیں۔ پرہیزگاروں کے لیے نہایت ہی عمده انجام ہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
وہ آخرت کا گھر تو ہم اُن لوگوں کے لیے مخصُوص کر دیں گے جو زمین میں اپنی بڑائی نہیں چاہتے اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں۔ اور انجام کی بھلائی متقین ہی کے لیے ہے۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
یہ آخرت کا گھر تو ہم ان لوگوں کے لیے مخصوص کرتے ہیں جو نہ تو زمین میں اقتدار و اختیار کے خواہاں ہیں اور نہ ہی فساد مچانا چاہتے ہیں اور آخرت کی زندگی تو ہے ہی اہل تقویٰ کے لیے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
آخرت کا یہ بھلا گھر ہم ان ہی کے لیے مقرر کر دیتے ہیں جو زمین میں اونچائی بڑائی اور فخر نہیں کرتے نہ فساد کی چاہت رکھتے ہیں۔ پرہیزگاروں کے لیے نہایت ہی عمده انجام ہے.[1]
حواشی
[1] عُلُوٌّ کا مطلب ہے ظلم وزیادتی، لوگوں سے اپنے کو بڑا اور برتر سمجھنا اور باور کرانا، تکبر اور فخر وغرور کرنا اور فساد کے معنی ہیں ناحق لوگوں کا مال ہتھیانا یا نافرمانیوں کا ارتکاب کرنا کہ ان دونوں باتوں سے زمین میں فساد پھیلتا ہے۔ فرمایا کہ متقین کا عمل واخلاق ان برائیوں اور کوتاہیوں سے پاک ہوتا ہے اور تکبر کے بجائے ان کے اندر تواضع، فروتنی اور معصیت کیشی کی بجائے اطاعت کیشی ہوتی ہے اور آخرت کا گھر یعنی جنت اور حسن انجام انہی کے حصے میں آئے گا۔