سورہ Al-Qasas — آیت 61
قصے · 28:61 · 61/88
أَفَمَن وَعَدْنَـٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَـٰقِيهِ كَمَن مَّتَّعْنَـٰهُ مَتَـٰعَ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ثُمَّ هُوَ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ مِنَ ٱلْمُحْضَرِينَ
Afaman waAAadnahu waAAdan hasananfahuwa laqeehi kaman mattaAAnahu mataAAa alhayatiaddunya thumma huwa yawma alqiyamati minaalmuhdareen
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا اور اُس نے اُسے حاصل کرلیا تو کیا وہ اس شخص کا سا ہے جس کو ہم نے دنیا کی زندگی کے فائدے سے بہرہ مند کیا پھر وہ قیامت کے روز ان لوگوں میں ہو جو (ہمارے روبرو) حاضر کئے جائیں گے
محمد جوناگڑھی
کیا وه شخص جس سے ہم نے نیک وعده کیا ہے جسے وه قطعاً پانے واﻻ ہے مثل اس شخص کے ہوسکتا ہے؟ جسے ہم نے زندگانیٴ دنیا کی کچھ یونہی سی منفعت دے دی پھر بالﺂخر وه قیامت کے روز پکڑا باندھا حاضر کیا جائے گا.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
بھلا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہو اور وہ اسے پانے والا ہو کبھی اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جسے ہم نے صرفِ حیات دنیا کا سروسامان دے دیا ہو اور پھر وہ قیامت کے روز سزا کے لیے پیش کیا جانے والا ہو؟
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
بھلا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہے اور وہ اس (وعدے کو) پالینے والا بھی ہے اس شخص جیسا ہوجائے گا جسے ہم نے دنیوی زندگی کا سازو سامان دے دیا ہو پھر وہ قیامت کے دن گرفتار کر کے حاضر کیے جانے والوں میں سے ہوگا
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
کیا وه شخص جس سے ہم نے نیک وعده کیا ہے جسے وه قطعاً پانے واﻻ ہے مثل اس شخص کے ہوسکتا ہے؟ جسے ہم نے زندگانیٴ دنیا کی کچھ یونہی سی منفعت دے دی پھر بالﺂخر وه قیامت کے روز پکڑا باندھا حاضر کیا جائے گا.[1]
حواشی
[1] یعنی سزا اور عذاب کا مستحق ہوگا۔ مطلب ہے اہل ایمان، وعدہ الٰہی کے مطابق نعمتوں سے بہرہ ور اور نافرمان عذاب سے دوچار۔ کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟