سورہ Al-Qasas — آیت 48
قصے · 28:48 · 48/88
فَلَمَّا جَآءَهُمُ ٱلْحَقُّ مِنْ عِندِنَا قَالُوا۟ لَوْلَآ أُوتِىَ مِثْلَ مَآ أُوتِىَ مُوسَىٰٓ ۚ أَوَلَمْ يَكْفُرُوا۟ بِمَآ أُوتِىَ مُوسَىٰ مِن قَبْلُ ۖ قَالُوا۟ سِحْرَانِ تَظَـٰهَرَا وَقَالُوٓا۟ إِنَّا بِكُلٍّ كَـٰفِرُونَ
Falamma jaahumu alhaqqumin AAindina qaloo lawla ootiya mithla maootiya moosa awa lam yakfuroo bima ootiya moosamin qablu qaloo sihrani tathaharawaqaloo inna bikullin kafiroon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
پھر جب اُن کے پاس ہماری طرف سے حق آپہنچا تو کہنے لگے کہ جیسی (نشانیاں) موسٰی کو ملی تھیں ویسی اس کو کیوں نہیں ملیں۔ کیا جو (نشانیاں) پہلے موسٰی کو دی گئی تھیں اُنہوں نے اُن سے کفر نہیں کیا۔ کہنے لگے کہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔ اور بولے کہ ہم سب سے منکر ہیں
محمد جوناگڑھی
پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آپہنچا تو کہتے ہیں کہ یہ وه کیوں نہیں دیا گیا جیسے دیئے گئے تھے موسیٰ (علیہ السلام) اچھا تو کیا موسیٰ (علیہ السلام) کو جو کچھ دیا گیا تھا اس کے ساتھ لوگوں نے کفر نہیں کیا تھا، صاف کہا تھا کہ یہ دونوں جادوگر ہیں جو ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور ہم تو ان سب کے منکر ہیں.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
مگر جب ہمارے ہاں سے حق اُن کے پاس آگیا تو وہ کہنے لگے”کیوں نہ دیا گیا اس کو وہی کچھ جو موسیٰؑ کو دیا گیا تھا؟“ کیا یہ لوگ اس کا انکار نہیں کر چکے ہیں جو اس سے پہلے موسیٰؑ کو دیا گیا تھا؟ اُنہوں نے کہا”دونوں جادُو ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔“ اور کہا”ہم کسی کو نہیں مانتے۔“
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
لیکن جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آگیا تو کہنے لگے کہ ان (رسول ﷺ کو وہی کچھ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ ؑ کو دیا گیا تھا تو جو کچھ پہلے موسیٰ ؑ کو دیا گیا تھا کیا لوگوں نے اس کے ساتھ کفر نہیں کیا تھا انہوں نے کہا کہ یہ تو دو جادو ہیں ایک دوسرے کے مددگار اور انہوں نے کہا کہ ہم تو دونوں کا انکار کرتے ہیں
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آپہنچا تو کہتے ہیں کہ یہ وه کیوں نہیں دیا گیا جیسے دیئے گئے تھے موسیٰ (علیہ السلام)[1] اچھا تو کیا موسیٰ (علیہ السلام) کو جو کچھ دیا گیا تھا اس کے ساتھ لوگوں نے کفر نہیں کیا تھا[2]، صاف کہا تھا کہ یہ دونوں جادوگر ہیں جو ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور ہم تو ان سب کے منکر ہیں.[3]
حواشی
[1] یعنی حضرت موسیٰ (عليه السلام) کے سے معجزات ، جیسے لاٹھی کا سانپ بن جانا اور ہاتھ کا چمکنا وغیرہ۔ [2] یعنی مطلوبہ معجزات، اگر دکھا بھی دیئے جائیں تو کیا فائدہ؟ جنہیں ایمان نہیں لانا ہے، وہ ہر طرح کی نشانیاں دیکھنے کے باوجود بھی ایمان سے محروم ہی رہیں گے۔ کیا موسیٰ (عليه السلام) کے مذکورہ معجزات دیھ کر فرعونی مسلمان ہوگئے تھے، انہوں نے کفر نہیں کیا؟ یا يَكْفُرُوا کی ضمیر قریش مکہ کی طرف ہے یعنی کیا انہوں نے نبوت محمدیہ سے پہلے موسیٰ (عليه السلام) کے ساتھ کفر نہیں کیا؟ [3] پہلے مفہوم کے اعتبار سے دونوں سے مراد حضرت موسیٰ وہارون علیہماالسلام ہوں گے اور سِحْرَانِ بمعنی سَاحِرَانِ ہوگا۔ اور دوسرے مفہوم میں اس سے قرآن اور تورات مراد ہوں گے یعنی دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور ہم سب کے یعنی موسیٰ (عليه السلام) اور محمد (صلى الله عليه وسلم) کے منکر ہیں۔ (فتح القدیر)