سورہ Al-Qasas — آیت 18

قصے · 28:18 · 18/88

فَأَصْبَحَ فِى ٱلْمَدِينَةِ خَآئِفًا يَتَرَقَّبُ فَإِذَا ٱلَّذِى ٱسْتَنصَرَهُۥ بِٱلْأَمْسِ يَسْتَصْرِخُهُۥ ۚ قَالَ لَهُۥ مُوسَىٰٓ إِنَّكَ لَغَوِىٌّ مُّبِينٌ

Faasbaha fee almadeenati kha-ifanyataraqqabu fa-itha allathee istansarahu bil-amsiyastasrikhuhu qala lahu moosa innakalaghawiyyun mubeen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

الغرض صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے کہ دیکھیں (کیا ہوتا ہے) تو ناگہاں وہی شخص جس نے کل اُن سے مدد مانگی تھی پھر اُن کو پکار رہا ہے۔ موسٰی نے اس سے کہا کہ تُو تو صریح گمراہ ہے

محمد جوناگڑھی

صبح ہی صبح ڈرتے اندیشہ کی حالت میں خبریں لینے کو شہر میں گئے، کہ اچانک وہی شخص جس نے کل ان سے مدد طلب کی تھی ان سے فریاد کر رہا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے کہا کہ اس میں شک نہیں تو تو صریح بے راه ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

دوسرے روز وہ صبح سویرے ڈرتا اور ہر طرف سے خطرہ بھانپتا ہوا شہر میں جا رہا تھا کہ یکایک کیا دیکھتا ہے کہ وہی شخص جس نے کل اُسے مدد کے لیے پکارا تھا آج پھر اُسے پکاررہا ہے۔ موسیٰؑ نے کہا”تُو تو بڑا ہی بہکا ہوا آدمی ہے۔“

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

تو اس نے صبح کی شہر میں (اس کیفیت میں) کہ وہ خوف زدہ بھی تھا اور چوکنا بھی تو اچانک (اس نے دیکھا کہ) جس شخص نے کل اس سے مدد مانگی تھی وہی آج پھر اس سے فریاد کر رہا ہے موسیٰ ؑ نے اس سے کہا کہ (معلوم ہوتا ہے) تم ہی ایک کھلے ہوئے شریر آدمی ہو

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

صبح ہی صبح ڈرتے[1] اندیشہ کی حالت میں خبریں لینے کو شہر میں گئے، کہ اچانک وہی شخص جس نے کل ان سے مدد طلب کی تھی ان سے فریاد کر رہا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے کہا کہ اس میں شک نہیں تو تو صریح بے راه ہے.[2]

حواشی

[1] خَائِفًا کے معنی ڈرتے ہوئے يَتَرَقَّبُ ، ادھر ادھر جھانکتے اور اپنے بارے میں اندیشوں میں مبتلا۔ [2] یعنی حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے اس کو ڈانٹا کہ تو کل بھی لڑتا ہوا پایا گیا تھا اور آج پھر تو کسی سے دست بہ گریبان ہے، تو تو صریح بےراہ یعنی جھگڑالو ہے۔