سورہ Al-Mu'minun — آیت 117

مومنین · 23:117 · 117/118

وَمَن يَدْعُ مَعَ ٱللَّهِ إِلَـٰهًا ءَاخَرَ لَا بُرْهَـٰنَ لَهُۥ بِهِۦ فَإِنَّمَا حِسَابُهُۥ عِندَ رَبِّهِۦٓ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلْكَـٰفِرُونَ

Waman yadAAu maAAa Allahi ilahanakhara la burhana lahu bihi fa-innamahisabuhu AAinda rabbihi innahu la yuflihualkafiroon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور جو شخص خدا کے ساتھ اور معبود کو پکارتا ہے جس کی اس کے پاس کچھ بھی سند نہیں تو اس کا حساب خدا ہی کے ہاں ہوگا۔ کچھ شک نہیں کہ کافر رستگاری نہیں پائیں گے

محمد جوناگڑھی

جو شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں، پس اس کا حساب تو اس کے رب کے اوپر ہی ہے۔ بےشک کافر لوگ نجات سے محروم ہیں.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور جو کوئی اللہ کے ساتھ کسی اور معبُود کو پکارے، جس کے لیے اُس کے پاس کوئی دلیل نہیں تو اُس کا حساب اُس کے ربّ کے پاس ہے۔ ایسے کافر کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور جو کوئی پکارے اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو جس کے بارے میں اس کے پاس کوئی دلیل موجود نہیں ہے تو اس کا حساب اس کے رب کے پاس ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسے کافر فلاح نہیں پائیں گے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

جو شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں، پس اس کا حساب تو اس کے رب کے اوپر ہی ہے۔ بےشک کافر لوگ نجات سے محروم ہیں.[1]

حواشی

[1] اس سے معلوم ہوا کہ فلاح اور کامیابی آخرت میں عذاب الٰہی سے بچ جانا ہے، محض دنیا کی دولت اور آسائشوں کی فروانی، کامیابی نہیں، یہ دنیا میں کافروں کو بھی حاصل ہے، لیکن اللہ تعالٰی ان سے فلاح کی نفی فرما رہا ہے، جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اصل فلاح آخرت سے فلاح ہے جو اہل ایمان کے حصے آئے گی، نہ کہ دنیاوی مال و اسباب کی کثرت، جو کہ بلا تفریق مومن اور کافر، سب کو ہی حاصل ہوتی ہے۔