سورہ Al-Ma'idah — آیت 96

دسترخوان · 5:96 · 96/120

أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ ٱلْبَحْرِ وَطَعَامُهُۥ مَتَـٰعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ ۖ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ ٱلْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا ۗ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ٱلَّذِىٓ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

Ohilla lakum saydu albahriwataAAamuhu mataAAan lakum walissayyaratiwahurrima AAalaykum saydu albarri ma dumtum hurumanwattaqoo Allaha allathee ilayhi tuhsharoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

تمہارے لیے دریا (کی چیزوں) کا شکار اور ان کا کھانا حلال کر دیا گیا ہے (یعنی) تمہارے اور مسافروں کے فائدے کے لیے اور جنگل (کی چیزوں) کا شکار جب تک تم احرام کی حالت میں رہو تم پر حرام ہے اور خدا سے جس کے پاس تم (سب) جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہو

محمد جوناگڑھی

تمہارے لئے دریا کا شکار پکڑنا اور اس کا کھانا حلال کیا گیا ہے۔ تمہارے فائده کے واسطے اور مسافروں کے واسطے اور خشکی کا شکار پکڑنا تمہارے لئے حرام کیا گیا ہے جب تک تم حالت احرام میں رہو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس کے پاس جمع کئے جاؤ گے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

تمہارے لیے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کردیا گیا، جہاں تم ٹھیرو وہاں بھی اُسے کھاسکتے ہو اور قافلے کے لیے زادِراہ بھی بناسکتے ہو۔ البتّہ خشکی کا شکار جب تک تم اِحرام کی حالت میں ہو، تم پر حرام کیا گیا ہے۔ پس بچو اُس خدا کی نا فرمانی سے جس کی پیشی میں تم سب کو گھیر کر حاضر کیا جائے گا

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

(البتہ) تمہارے لیے حلال کردیا گیا ہے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا تمہارے لیے اور مسافروں کے لیے زاد راہ کے طور پر لیکن خشکی پر شکار کرنا تمہارے لیے حرام کردیا گیا ہے جب تک کہ تم احرام میں ہو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کیے رکھو جس کی طرف تمہیں جمع کر دیاجائے گا

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

تمہارے لئے دریا کا شکار پکڑنا اور اس کا کھانا حلال کیا گیا ہے[1] ۔ تمہارے فائده کے واسطے اور مسافروں کے واسطے اور خشکی کا شکار پکڑنا تمہارے لئے حرام کیا گیا ہے جب تک تم حالت احرام میں رہو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس کے پاس جمع کئے جاؤ گے۔

حواشی

[1] ”صَيْدٌ“ سے مراد زندہ جانور اورطَعَامُهُ سے مراد وہ مردہ (مچھلی وغیرہ) ہے جسے سمندر یا دریا باہر پھینک دے یا پانی کے اوپر آجائے۔ جس طرح کہ حدیث میں بھی وضاحت ہے کہ سمندر کا مردار حلال ہے۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو۔ تفسیر ابن کثیر اور نیل الاوطار وغیرہ )