سورہ Al-Ma'idah — آیت 71
دسترخوان · 5:71 · 71/120
وَحَسِبُوٓا۟ أَلَّا تَكُونَ فِتْنَةٌ فَعَمُوا۟ وَصَمُّوا۟ ثُمَّ تَابَ ٱللَّهُ عَلَيْهِمْ ثُمَّ عَمُوا۟ وَصَمُّوا۟ كَثِيرٌ مِّنْهُمْ ۚ وَٱللَّهُ بَصِيرٌۢ بِمَا يَعْمَلُونَ
Wahasiboo alla takoonafitnatun faAAamoo wasammoo thumma taba AllahuAAalayhim thumma AAamoo wasammoo katheerun minhum wallahubaseerun bima yaAAmaloon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور خیال کرتے تھے کہ (اس سے ان پر) کوئی آفت نہیں آنے کی تو وہ اندھے اور بہرے ہو گئے پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی (لیکن) پھر ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہو گئے اور خدا ان کے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے
محمد جوناگڑھی
اور سمجھ بیٹھے کہ کوئی پکڑ نہ ہوگی، پس اندھے بہرے بن بیٹھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی، اس کے بعد بھی ان میں سے اکثر اندھے بہرے ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو بخوبی دیکھنے واﻻ ہے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اور اپنے نزدیک یہ سمجھے کہ کوئی فتنہ رونما نہ ہوگا، اس لیے اندھے اور بہرے بن گئے پھر اللہ نے اُنہیں معاف کیا تو اُن میں سے اکثر لوگ اور زیادہ اندھے اور بہرے بنتے چلے گئے اللہ اُن کی یہ سب حرکات دیکھتا رہا ہے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور انہوں نے سمجھا کہ ان پر کوئی پکڑ نہیں آئے گی تو وہ بہرے بھی ہوگئے اندھے بھی ہوگئے پھر اللہ نے انہیں معاف کردیا (نتیجہ یہ ہوا کہ) پھر ان میں سے اکثر لوگ اور زیادہ اندھے اور بہرے ہوگئے اور جو کچھ وہ کر رہے ہیں اللہ اسے دیکھ رہا ہے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اور سمجھ بیٹھے کہ کوئی پکڑ نہ ہوگی، پس اندھے بہرے بن بیٹھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی، اس کے بعد بھی ان میں سے اکثر اندھے بہرے ہوگئے[1] ۔ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو بخوبی دیکھنے واﻻ ہے۔
حواشی
[1] یعنی سمجھے یہ تھے کہ کوئی سزا مترتب نہ ہوگی۔ لیکن مذکورہ اصول الٰہی کے مطابق یہ سزا مترتب ہوئی کہ یہ حق کے دیکھنے سے مزید اندھے اور حق کے سننے سے مزید بہرے ہوگئے اور توبہ کے بعد پھر یہی عمل انہوں نے دہرایا ہے تو اس کی وہی سزا بھی دوبارہ مترتب ہوئی۔