سورہ Al-Ma'idah — آیت 61
دسترخوان · 5:61 · 61/120
وَإِذَا جَآءُوكُمْ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا وَقَد دَّخَلُوا۟ بِٱلْكُفْرِ وَهُمْ قَدْ خَرَجُوا۟ بِهِۦ ۚ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا۟ يَكْتُمُونَ
Wa-itha jaookum qaloo amannawaqad dakhaloo bilkufri wahum qad kharajoo bihi wallahuaAAlamu bima kanoo yaktumoon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور جب یہ لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے حالانکہ کفر لے کر آتے ہیں اور اسی کو لیکر جاتے ہیں اور جن باتوں کو یہ مخفی رکھتے ہیں خدا ان کو خوب جانتا ہے
محمد جوناگڑھی
اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان ﻻئے حاﻻنکہ وه کفر لئے ہوئے ہی آئے تھے اور اسی کفر کے ساتھ ہی گئے بھی اور یہ جو کچھ چھپا رہے ہیں اسے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
جب یہ تم لوگوں کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، حالانکہ کفر لیے ہوئے آئے تھے اور کفر ہی لیے ہوئے واپس گئے اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور جب وہ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے حالانکہ وہ داخل بھی ہوئے تھے کفر کے ساتھ اور نکلے بھی ہیں کفر کے ساتھ اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ چھپائے ہوئے تھے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان ﻻئے حاﻻنکہ وه کفر لئے ہوئے ہی آئے تھے اور اسی کفر کے ساتھ ہی گئے بھی اور یہ جو کچھ چھپا رہے ہیں اسے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔[1]
حواشی
[1] یہ منافقین کا ذکر ہے۔ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کفر کے ساتھ ہی آتے ہیں اور اسی کفر کے ساتھ واپس چلے جاتے ہیں، آپ (صلى الله عليه وسلم) کی صحبت اور آپ کے وعظ ونصیحت کا کوئی اثر ان پر نہیں ہوتا۔ کیونکہ دل میں تو کفر چھپا ہوتا ہے اور رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کی خدمت میں حاضری سے مقصد ہدایت کا حصول نہیں، بلکہ دھوکہ اور فریب دینا ہوتا ہے۔ تو پھر ایسی حاضری سے فائدہ بھی کیا ہوسکتا ہے؟