سورہ Al-Ma'idah — آیت 51

دسترخوان · 5:51 · 51/120

۞ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَتَّخِذُوا۟ ٱلْيَهُودَ وَٱلنَّصَـٰرَىٰٓ أَوْلِيَآءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُۥ مِنْهُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ

Ya ayyuha allatheena amanoola tattakhithoo alyahooda wannasaraawliyaa baAAduhum awliyao baAAdinwaman yatawallahum minkum fa-innahu minhum inna Allaha layahdee alqawma aththalimeen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اے ایمان والو! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو شخص تم میں سے ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

محمد جوناگڑھی

اے ایمان والو! تم یہود ونصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ تم میں سے جو بھی ان میں کسی سے دوستی کرے وه بےشک انہی میں سے ہے، ﻇالموں کو اللہ تعالیٰ ہرگز راه راست نہیں دکھاتا۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بناؤ، یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انہی میں ہے، یقیناً اللہ ظالموں کو اپنی رہنمائی سے محروم کر دیتا ہے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

7) اے ایمان والو ! یہود و نصاریٰ کو اپنادلی دوست (حمایتی اور پشت پناہ) نہ بنا ؤوہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جو کوئی ان سے دلی دوستی رکھے گا تو وہ ان ہی میں سے ہوگا یقینا اللہ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اے ایمان والو! تم یہود ونصاریٰ کو دوست نہ بناؤ[1] یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں[2]۔ تم میں سے جو بھی ان میں کسی سے دوستی کرے وه بےشک انہی میں سے ہے، ﻇالموں کو اللہ تعالیٰ ہرگز راه راست نہیں دکھاتا۔[3]

حواشی

[1] اس میں یہود ونصاریٰ سے موالات ومحبت کا رشتہ قائم کرنے سے منع کیا گیا ہے جو اسلام کے اور مسلمانوں کے دشمن ہیں اور اس پر اتنی سخت وعید بیان فرمائی کہ جو ان سے دوستی رکھے گا وہ انہی میں سے سمجھا جائے گا۔ (مزید دیکھئے سورۂ آل عمران آیت 28 اور آیت 118 کا حاشیہ) [2] قرآن کی اس بیان کردہ حقیقت کا مشاہدہ ہر شخص کرسکتا ہے کہ یہود ونصاریٰ کا اگرچہ آپس میں عقائد کے لحاظ سے شدید اختلاف اور باہمی بغض وعناد ہے، لیکن اس کے باوجود یہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک دوسرے کے معاون بازو اور محافظ ہیں۔ [3] ان آیات کی شان نزول میں بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت انصاری (رضي الله عنه) اور رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی دونوں ہی عہد جاہلیت سے یہود کے حلیف چلے آ رہے تھے۔ جب بدر میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی تو عبداللہ بن ابی نے بھی اسلام کا اظہار کیا۔ ادھر بنو قینقاع کے یہودیوں نے تھوڑے ہی دنوں بعد فتنہ برپا کیا اور وہ کس لئے گئے، جس پر حضرت عبادہ (رضي الله عنه) نے تو اپنے یہودی حلیفوں سے اعلان براءت کردیا۔ لیکن عبداللہ بن ابی نے اس کے برعکس یہودیوں کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ جس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔