سورہ Al-Ma'idah — آیت 35
دسترخوان · 5:35 · 35/120
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱبْتَغُوٓا۟ إِلَيْهِ ٱلْوَسِيلَةَ وَجَـٰهِدُوا۟ فِى سَبِيلِهِۦ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
Ya ayyuha allatheena amanooittaqoo Allaha wabtaghoo ilayhi alwaseelata wajahidoofee sabeelihi laAAallakum tuflihoon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اے ایمان والو! خدا سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تلاش کرتے رہو اور اس کے رستے میں جہاد کرو تاکہ رستگاری پاؤ
محمد جوناگڑھی
مسلمانو! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب تلاش کرو اور اس کی راه میں جہاد کرو تاکہ تمہارا بھلا ہو۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور اُس کی جناب میں بار یابی کا ذریعہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جدوجہد کرو، شاید کہ تمہیں کامیابی نصیب ہوجائے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اے اہل ایمان اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اس کی جناب میں اس کا قرب تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
مسلمانو! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب تلاش کرو[1] اور اس کی راه میں جہاد کرو تاکہ تمہارا بھلا ہو۔
حواشی
[1] وسیلہ کے معنی ایسی چیز کے ہیں جو کسی مقصود کے حصول یا اس کے قرب کا ذریعہ ہو۔ ”اللہ تعالیٰ کی طرف وسیلہ تلاش کرو“ کا مطلب ہوگا ایسے اعمال اختیار کرو جس سے تمہیں اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل ہوجائے۔ امام شوکانی فرماتے ہیں: ”إِنَّ الْوَسِيلَةَ - الَّتِي هِيَ الْقُرْبَةُ - تَصْدُقُ عَلَى التَّقْوَى وَعَلَى غَيْرِهَا مِنْ خِصَالِ الْخَيْرِ، الَّتِي يَتَقَرَّبُ الْعِبَادُ بِهَا إِلَى رَبِّهِمْ“ (وسیلہ جو قربت کے معنی میں ہے، تقویٰ اور دیگر خصال خیر پر صادق آتا ہے جن کے ذریعے سے بندے اپنے رب کا قرب حاصل کرتے ہیں) اسی طرح منہیات ومحرمات کے اجتناب سے بھی اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ اس لئے منہیات ومحرمات کا ترک بھی قرب الٰہی کا وسیلہ ہے۔ لیکن جاہلوں نے اس حقیقی وسیلے کو چھوڑ کر قبروں میں مدفون لوگوں کو اپنا وسیلہ سمجھ لیا ہے جس کی شریعت میں کوئی بنیاد نہیں ہے۔ البتہ حدیث میں اس مقام محمود کو بھی وسیلہ کہا گیا ہے جو جنت میں نبی (صلى الله عليه وسلم) کو عطا فرمایا جائے گا۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو اذان کے بعد میرے لئے یہ دعائے وسیلہ کرے گا وہ میری شفاعت کا مستحق ہوگا“۔ (صحيح بخاري- كتاب الأذان، صحيح مسلم، كتاب الصلاة) دعائے وسیلہ جو اذان کے بعد پڑھنی مسنون ہے: ”اللَّهُمَّ! رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلاةِ الْقَائِمَةِ؛ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتهُ“.