سورہ Al-Ma'idah — آیت 14
دسترخوان · 5:14 · 14/120
وَمِنَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّا نَصَـٰرَىٰٓ أَخَذْنَا مِيثَـٰقَهُمْ فَنَسُوا۟ حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوا۟ بِهِۦ فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ ٱلْعَدَاوَةَ وَٱلْبَغْضَآءَ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۚ وَسَوْفَ يُنَبِّئُهُمُ ٱللَّهُ بِمَا كَانُوا۟ يَصْنَعُونَ
Wamina allatheena qaloo innanasara akhathna meethaqahumfanasoo haththan mimma thukkiroobihi faaghrayna baynahumu alAAadawata walbaghdaaila yawmi alqiyamati wasawfa yunabbi-ohumu Allahubima kanoo yasnaAAoon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور جو لوگ (اپنے تئیں) کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ہم نے ان سے بھی عہد لیا تھا مگر انہوں نے بھی اس نصیحت کا جو ان کو کی گئی تھی ایک حصہ فراموش کر دیا تو ہم نے ان کے باہم قیامت تک کے لیے دشمنی اور کینہ ڈال دیا اور جو کچھ وہ کرتے رہے خدا عنقریب ان کو اس سے آگاہ کرے گا
محمد جوناگڑھی
اور جو اپنے آپ کو نصرانی کہتے ہیں ہم نے ان سے بھی عہد وپیمان لیا، انہوں نے بھی اس کا بڑا حصہ فراموش کر دیا جو انہیں نصیحت کی گئی تھی، تو ہم نے بھی ان کے آپس میں بغض وعداوت ڈال دی جو تاقیامت رہے گی اور جو کچھ یہ کرتے تھے عنقریب اللہ تعالیٰ انہیں سب بتا دے گا۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اِسی طرح ہم نے اُن لوگوں سے بھی پُختہ عہد لیا تھا جنہوں نے کہا تھا کہ ہم ”نصارٰی“ ہیں، مگر ان کو بھی جو سبق یاد کرایا گیا تھا اس کا ایک بڑا حصّہ اُنہوں نے فراموش کردیا، آخر کار ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے دُشمنی اور آپس کے بُغض و عناد کا بیج بو دیا، اور ضرور ایک وقت آئے گا جب اللہ نہیں بتائے گا کہ وہ دنیا میں کیا بناتے رہے ہیں
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور جن لوگوں نے کہا ہم نصاریٰ ہیں ہم نے ان سے بھی میثاق لیا تو وہ بھی بھول گئے بڑا حصہ اس کا جس کی ان کو نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے ڈال دی ان کے درمیان دشمنی اور بغض قیامت کے دن تک اور عنقریب اللہ تعالیٰ جتلا دے گا انہیں جو کچھ وہ کرتے رہے تھے۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اور جو اپنے آپ کو نصرانی کہتے ہیں[1] ہم نے ان سے بھی عہد وپیمان لیا، انہوں نے بھی اس کا بڑا حصہ فراموش کر دیا جو انہیں نصیحت کی گئی تھی، تو ہم نے بھی ان کے آپس میں بغض وعداوت ڈال دی جو تاقیامت رہے گی[2] اور جو کچھ یہ کرتے تھے عنقریب اللہ تعالیٰ انہیں سب بتا دے گا۔
حواشی
[1] ”نَصَارَى“ ”نُصْرَةٌ“ (مدد) سے ہے۔ یہ حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کے سوال ”مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللَّهِ“ (اللہ کے دین میں کون میرا مددگار ہے؟) کے جواب میں ان کے چند مخلص پیروکاروں نے جواب دیا تھا ”نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ“ (ہم اللہ کے مددگار ہیں) اسی سے ماخوذ ہے۔ یہ بھی یہود کی طرح اہل کتاب ہیں۔ ان سے بھی اللہ نے عہد لیا، لیکن انہوں نے بھی اس کی پرواہ نہیں کی، اس کے نتیجے میں ان کے دل بھی اثر پذیری سے خالی اوران کے کردار کھوکھلے ہوگئے۔ [2] یہ عہد الٰہی سے انحراف اور بے عملی کی وہ سزا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر قیامت تک کے لئے مسلط کر دی گئی۔ چنانچہ عیسائیوں کے کئی فرقے ہیں جو ایک دوسرے سے شدید نفرت وعناد رکھتے اور ایک دوسرے کی تکفیر کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے معبد میں عبادت نہیں کرتے۔ معلوم ہوتا ہے کہ امت مسلمہ پر بھی یہ سزا مسلط کر دی گئی ہے۔ یہ امت بھی کئی فرقوں میں بٹ گئی ہے، جن کے درمیان شدید اختلافات اور نفرت و عناد کی دیواریں حائل ہیں۔ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔