سورہ Al-Ma'idah — آیت 111
دسترخوان · 5:111 · 111/120
وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى ٱلْحَوَارِيِّـۧنَ أَنْ ءَامِنُوا۟ بِى وَبِرَسُولِى قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا وَٱشْهَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ
Wa-ith awhaytu ila alhawariyyeenaan aminoo bee wabirasoolee qaloo amannawashhad bi-annana muslimoon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور جب میں نے حواریوں کی طرف حکم بھیجا کہ مجھ پر اور میرے پیغمبر پر ایمان لاؤ وہ کہنے لگے کہ (پروردگار) ہم ایمان لائے تو شاہد رہیو کہ ہم فرمانبردار ہیں
محمد جوناگڑھی
اور جب کہ میں نے حواریین کو حکم دیا کہ تم مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان ﻻؤ، انہوں نے کہا کہ ہم ایمان ﻻئے اور آپ شاہد رہیئے کہ ہم پورے فرماں بردار ہیں۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اور جب میں نے حواریوں کو اشارہ کیا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاوٴ تب اُنہوں نے کہا کہ ہم ایمان لائے اور گواہ رہو کہ ہم مسلم ہیں“
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور (یاد کرو میرے احسان کو) جب میں نے اشارہ کیا حواریوں کو کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو انہوں نے کہا ہم ایمان لائے اور (اے عیسیٰ ؑ آپ بھی) گواہ رہیے کہ ہم اللہ کے فرماں بردار ہیں
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اور جب کہ میں نے حواریین کو حکم دیا[1] کہ تم مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان ﻻؤ، انہوں نے کہا کہ ہم ایمان ﻻئے اور آپ شاہد رہیئے کہ ہم پورے فرماں بردار ہیں۔
حواشی
[1] ”حَوَارِيِّينَ“ سے مراد حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کے وہ پیروکار ہیں جو ان پر ایمان لائے اور ان کے ساتھی اور مددگار بنے۔ ان کی تعداد بیان کی جاتی ہے۔ وحی سے مراد یہاں وہ وحی نہیں جو بذریعہ فرشتہ انبیا علیہم السلام پر نازل ہوتی تھی بلکہ یہ وحی الہام ہے، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بعض لوگوں کے دلوں میں القا کردی جاتی ہے، جیسے حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی والدہ اور حضرت مریم علیہا السلام کو اسی قسم کا الہام ہوا جسے قرآن نے وحی ہی سے تعبیر کیا ہے۔