سورہ Al-Ma'idah — آیت 109

دسترخوان · 5:109 · 109/120

۞ يَوْمَ يَجْمَعُ ٱللَّهُ ٱلرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَآ أُجِبْتُمْ ۖ قَالُوا۟ لَا عِلْمَ لَنَآ ۖ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّـٰمُ ٱلْغُيُوبِ

Yawma yajmaAAu Allahu arrusulafayaqoolu matha ojibtum qaloo la AAilma lanainnaka anta AAallamu alghuyoob

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

(وہ دن یاد رکھنے کے لائق ہے) جس دن خدا پیغمبروں کو جمع کرے گا پھر ان سے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا تھا وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں توہی غیب کی باتوں سے واقف ہے

محمد جوناگڑھی

جس روز اللہ تعالیٰ تمام پیغمبروں کو جمع کرے گا، پھر ارشاد فرمائے گا کہ تم کو کیا جواب ملا تھا، وه عرض کریں گے کہ ہم کو کچھ خبر نہیں تو ہی بےشک پوشیده باتوں کو پورا جاننے واﻻ ہے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

جس روز اللہ سب رسولوں کو جمع کرکے پُوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا، تو وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ علم نہیں، آپ ہی تمام پوشیدہ حقیقتوں کو جانتے ہیں

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

(اس دن کا تصور کرو) جس دن اللہ تعالیٰ تمام رسولوں کو جمع کرے گا اور پوچھے گا آپ لوگوں کو کیا جواب ملا تھا ؟ وہ کہیں گے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں تو ہی بہتر جاننے والا ہے غیب کی باتوں کا۔

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

جس روز اللہ تعالیٰ تمام پیغمبروں کو جمع کرے گا، پھر ارشاد فرمائے گا کہ تم کو کیا جواب ملا تھا، وه عرض کریں گے کہ ہم کو کچھ خبر نہیں[1] تو ہی بےشک پوشیده باتوں کو پورا جاننے واﻻ ہے۔

حواشی

[1] انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ان کی قوموں نے اچھا یا برا جو بھی معاملہ کیا، اس کا علم تو یقیناً انہیں ہوگا لیکن وہ اپنے علم کی نفی یا تو محشر کی ہولناکیوں اور اللہ جل جلالہ کی ہیبت وعظمت کی وجہ سے کریں گے یا اس کا تعلق ان کی وفات کے بعد کے حالات سے ہوگا۔ علاوہ ازیں باطنی امور کا علم تو کلیتاً صرف اللہ ہی کو ہے۔ اسی لئے وہ کہیں گے علام الغیوب تو، توہی ہے نہ کہ ہم۔ اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء ورسل عالم الغیب نہیں ہوتے، عالم الغیب صرف ایک اللہ کی ذات ہے۔ انبیاء کو جتنا کچھ بھی علم ہوتا ہے، اولاً تو اس کا تعلق ان امور سے ہوتا ہے جو فرائض رسالت کی ادائیگی کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔ ثانیاً ان سے بھی ان کو بذریعہ وحی ہی آگاہ کیا جاتا ہے۔ حالانکہ عالم الغیب وہ ہوتا ہے جس کو ہر چیز کا علم ذاتی طور پر ہو، نہ کسی کے بتلانے پر اور جس کو بتلانے پر کسی چیز کا علم حاصل ہوا اسے عالم الغیب نہیں کہا جاتا، نہ وہ عالم الغیب ہوتا ہے۔ فَافْهَمْ وَتَدَبَّرْ وَلا تَكُنْ مِنَ الْغَافِلِينَ