سورہ Al-Ma'idah — آیت 100
دسترخوان · 5:100 · 100/120
قُل لَّا يَسْتَوِى ٱلْخَبِيثُ وَٱلطَّيِّبُ وَلَوْ أَعْجَبَكَ كَثْرَةُ ٱلْخَبِيثِ ۚ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ يَـٰٓأُو۟لِى ٱلْأَلْبَـٰبِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
Qul la yastawee alkhabeethu wattayyibuwalaw aAAjabaka kathratu alkhabeethi fattaqoo Allahaya olee al-albabi laAAallakum tuflihoon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
کہہ دو کہ ناپاک چیزیں اور پاک چیزیں برابر نہیں ہوتیں گو ناپاک چیزوں کی کثرت تمہیں خوش ہی لگے تو عقل والو خدا سے ڈرتے رہو تاکہ رستگاری حاصل کرو
محمد جوناگڑھی
آپ فرما دیجیئے کہ ناپاک اور پاک برابر نہیں گو آپ کو ناپاک کی کثرت بھلی لگتی ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اے عقل مندو! تاکہ تم کامیاب ہو۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اے پیغمبر ؐ ! اِن سے کہہ دو کہ پاک اور ناپاک بہرحال یکساں نہیں ہیں خواہ ناپاک کی بہتات تمہیں کتنا ہی فریفتہ کرنے والی ہو، پس اے لوگو جو عقل رکھتے ہو ! اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو، اُمّید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
(اے بنی ﷺ کہہ دیجیے کہ ناپاک اور پاک برابر نہیں ہوسکتے چاہے ناپاک شے کی کثرت تمہیں اچھی لگے تو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اے ہوش مندو تاکہ تم فلاح پاؤ
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
آپ فرما دیجیئے کہ ناپاک اور پاک برابر نہیں گو آپ کو ناپاک کی کثرت بھلی لگتی[1] ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اے عقل مندو! تاکہ تم کامیاب ہو۔
حواشی
[1] ”خَبِيثٌ“ (ناپاک) سے مراد حرام، یا کافر یا گناہ گار یا ردی۔ ”طیب“ (پاک) سے مراد حلال، یا مومن یا فرماں بردار اور عمدہ چیز ہے یا یہ سارے ہی مراد ہوسکتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس چیز میں خبث (ناپاکی) ہوگی وہ کفر ہو، فسق وفجور ہو، اشیا واقوال ہوں، کثرت کے باوجود وہ ان چیزوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے جن میں پاکیزگی ہو۔ یہ دونوں کسی صورت میں برابر نہیں ہوسکتے۔ اس لئے خبث کی وجہ سے اس چیز کی منفعت اور برکت ختم ہوجاتی ہے جب کہ جس چیز میں پاکیزگی ہوگی اس سے اس کی منفعت اور برکت میں اضافہ ہوگا۔