سورہ Al-Kahf — آیت 54

غار · 18:54 · 54/110

وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِى هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانِ لِلنَّاسِ مِن كُلِّ مَثَلٍ ۚ وَكَانَ ٱلْإِنسَـٰنُ أَكْثَرَ شَىْءٍ جَدَلًا

Walaqad sarrafna fee hathaalqur-ani linnasi min kulli mathalin wakanaal-insanu akthara shay-in jadala

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں (کے سمجھانے) کے لئے طرح طرح کی مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ لیکن انسان سب چیزوں سے بڑھ کر جھگڑالو ہے

محمد جوناگڑھی

ہم نے اس قرآن میں ہر ہر طریقے سے تمام کی تمام مثالیں لوگوں کے لئے بیان کردی ہیں لیکن انسان سب سے زیاده جھگڑالو ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

ہم نے اِس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا مگر انسان بڑا ہی جھگڑالو واقع ہوا ہے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور ہم نے پھیر پھیر کر بیان کردی ہیں اس قرآن میں لوگوں (کی ہدایت) کے لیے ہر قسم کی مثالیں لیکن انسان تمام مخلوق سے بڑھ کر جھگڑالو ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

ہم نے اس قرآن میں ہر ہر طریقے سے تمام کی تمام مثالیں لوگوں کے لئے بیان کردی ہیں لیکن انسان سب سے زیاده جھگڑالو ہے.[1]

حواشی

[1] یعنی ہم نے انسانوں کو حق کا راستہ سمجھانے کے لئے قرآن میں ہر طریقہ استعمال کیا، وعظ و تذکیر، امثال و واقعات اور دلائل و براہین، علاوہ ازیں انہیں بار بار اور مختلف انداز سے بیان کیا ہے۔ لیکن انسان چونکہ سخت جھگڑالو ہے، اس لئے وعظ نصیحت کا اس پر اثر ہوتا ہے اور نہ دلائل و براہین اس کے لئے کارگر۔