سورہ Al-Kahf — آیت 27

غار · 18:27 · 27/110

وَٱتْلُ مَآ أُوحِىَ إِلَيْكَ مِن كِتَابِ رَبِّكَ ۖ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَـٰتِهِۦ وَلَن تَجِدَ مِن دُونِهِۦ مُلْتَحَدًا

Watlu ma oohiya ilaykamin kitabi rabbika la mubaddila likalimatihiwalan tajida min doonihi multahada

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور اپنے پروردگار کی کتاب جو تمہارے پاس بھیجی جاتی ہے پڑھتے رہا کرو۔ اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں۔ اور اس کے سوا تم کہیں پناہ کی جگہ بھی نہیں پاؤ گے

محمد جوناگڑھی

تیری جانب جو تیرے رب کی کتاب وحی کی گئی ہے اسے پڑھتا ره، اس کی باتوں کو کوئی بدلنے واﻻ نہیں تو اس کے سوا ہرگزکوئی پناه کی جگہ نہ پائے گا.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اے نبیؐ ، تمہارے ربّ کی کتاب میں سے جو کچھ تم پر وحی کیا گیا ہے اسے (جُوں کا تُوں)سُنا دو، کوئی اُس کے فرمودات کو بدل دینے کا مجاز نہیں ہے، (اور اگر تم کسی کی خاطر اس میں ردّو بدل کرو گے تو)اُس سے بچ کر بھاگنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہ پاوٴ گے۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور (اے نبی !) آپ تلاوت کیجیے جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے آپ کے رب کی کتاب میں سے اس کی باتوں کو بدلنے والا کوئی نہیں ہے اور آپ نہیں پائیں گے اس کے سوا کوئی جائے پناہ

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

تیری جانب جو تیرے رب کی کتاب وحی کی گئی ہے اسے پڑھتا ره[1] ، اس کی باتوں کو کوئی بدلنے واﻻ نہیں تو اس کے سوا ہرگزکوئی پناه کی جگہ نہ پائے گا.[2]

حواشی

[1] ویسے تو یہ حکم عام ہے کہ جس چیز کی بھی وحی آپ کی طرف کی جائے، اس کی تلاوت فرمائیں اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیں۔ لیکن اصحاب کہف کے قصے کے خاتمے پر اس حکم سے مراد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اصحاب کہف کے بارے میں لوگ جو چاہیں، کہتے پھریں۔ لیکن اللہ تعالٰی نے اس کے بارے میں اپنی کتاب میں جو کچھ اور جتنا کچھ بیان فرما دیا ہے، وہی صحیح ہے، وہی لوگوں کو پڑھ کر سنا دیجئے، اس سے زیادہ دیگر باتوں کی طرف دھیان نہ دیجئے۔ [2] یعنی اگر اسے بیان کرنے سے گریز و انحراف کیا، یا اس کے کلمات میں تغیر و تبدیلی کی کوشش کی، تو اللہ سے آپ کو بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ خطاب اگرچہ نبی (صلى الله عليه وسلم) سے ہے، لیکن اصل مخاطب امت ہے۔