سورہ Al-Jumu'ah — آیت 5
جمعہ · 62:5 · 5/11
مَثَلُ ٱلَّذِينَ حُمِّلُوا۟ ٱلتَّوْرَىٰةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا كَمَثَلِ ٱلْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًۢا ۚ بِئْسَ مَثَلُ ٱلْقَوْمِ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ ۚ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
Mathalu allatheena hummiloo attawratathumma lam yahmilooha kamathali alhimariyahmilu asfaran bi'sa mathalu alqawmi allatheenakaththaboo bi-ayati Allahi wallahula yahdee alqawma aththalimeen
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
جن لوگوں (کے سر) پر تورات لدوائی گئی پھر انہوں نے اس (کے بار تعمیل) کو نہ اٹھایا ان کی مثال گدھے کی سی ہے جن پر بڑی بڑی کتابیں لدی ہوں۔ جو لوگ خدا کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں ان کی مثال بری ہے۔ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
محمد جوناگڑھی
جن لوگوں کو تورات پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا پھر انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جو بہت سی کتابیں ﻻدے ہو۔ اللہ کی باتوں کو جھٹلانے والوں کی بڑی بری مثال ہے اور اللہ (ایسے) ﻇالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
جن لوگوں کو توراة کا حامل بنایا گیا تھا مگر انہوں نے اس کا بار نہ اُٹھایا، اُن کی مثال اُس گدھے کی سی ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں۔ اِس سے بھی زیادہ بُری مثال ہےاُن لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیات کو جُھٹلا دیا ہے۔ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
مثال ان لوگوں کی جو حامل تورات بنائے گئے پھر وہ اس کے حامل ثابت نہ ہوئے اس گدھے کی سی (مثال) ہے جو اٹھائے ہوئے ہو کتابوں کا بوجھ۔ بہت بری مثال ہے اس قوم کی جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا۔ اور اللہ ایسے ظالموں کو (زبردستی) ہدایت نہیں دیتا۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
جن لوگوں کو تورات پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا پھر انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جو بہت سی کتابیں ﻻدے ہو[1] ۔ اللہ کی باتوں کو جھٹلانے والوں کی بڑی بری مثال ہے اور اللہ (ایسے) ﻇالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا.
حواشی
[1] أَسْفَارٌ، سِفْرٌ کی جمع ہے۔ معنی ہیں بڑی کتاب۔ کتاب جب پڑھی جاتی ہے تو انسان اس کے معنوں میں سفر کرتا ہے۔ اس لیے کتاب کو بھی سفر کہا جاتا ہے (فتح القدیر) یہ بےعمل یہودیوں کی مثال بیان کی گئی ہے کہ جس طرح گدھے کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کی کمر پر جو کتابیں لدی ہوئی ہیں، ان میں کیا لکھا ہوا ہے؟ یا اس پر کتابیں لدی ہوئی ہیں یا کوڑا کرکٹ۔ اسی طرح یہ یہودی ہیں یہ تورات کو تو اٹھائے پھرتے ہیں ، اس کو پڑھنے اور یاد کرنے کے وعدے بھی کرتے ہیں، لیکن اسے سمجھتے ہیں نہ اس کے مقتضا پر عمل کرتے ہیں، بلکہ اس میں تاویل وتحریف اور تغیر وتبدل سے کام لیتے ہیں۔ اس لیے یہ حقیقت میں گدھے سے بھی بدتر ہیں، کیونکہ گدھا تو پیدائشی طور پر فہم وشعور سے ہی عاری ہوتا ہے، جب کہ ان کے اندر فہم وشعور ہے لیکن یہ اسے صحیح طریقے سے استعمال نہیں کرتے۔ اسی لیے آگے فرمایا کہ ان کی بڑی بری مثال ہے۔ اور دوسرے مقام پر فرمایا، «أُولَئِكَ كَالأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ» (الأعراف: 179) ”یہ چوپائے کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ“۔ یہی مثال مسلمانوں کی اور بالخصوص علما کی ہے جو قرآن پڑھتے ہیں، اسے یاد کرتے ہیں اور اس کے معانی ومطالب کو سمجھتے ہیں، لیکن اس کے مقتضا پر عمل نہیں کرتے۔