سورہ Al-Jinn — آیت 27
جن · 72:27 · 27/28
إِلَّا مَنِ ٱرْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُۥ يَسْلُكُ مِنۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِۦ رَصَدًا
Illa mani irtada min rasoolinfa-innahu yasluku min bayni yadayhi wamin khalfihi rasada
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
ہاں جس پیغمبر کو پسند فرمائے تو اس (کو غیب کی باتیں بتا دیتا اور اس) کے آگے اور پیچھے نگہبان مقرر کر دیتا ہے
محمد جوناگڑھی
سوائے اس پیغمبر کے جسے وه پسند کرلے لیکن اس کے بھی آگے پیچھے پہرے دار مقرر کردیتا ہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
سوائے اُس رسُول کے جسے اُس نے (غیب کا کوئی علم دینے کے لیے) پسند کر لیا ہو، تو اُس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
سوائے اس کے جس کو اس نے پسند فرما لیا ہو اپنے رسولوں میں سے تو اس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
سوائے اس پیغمبر کے جسے وه پسند کرلے[1] لیکن اس کے بھی آگے پیچھے پہرے دار مقرر کردیتا ہے.[2]
حواشی
[1] یعنی اپنے پیغمبر کو بعض امور غیب سے مطلع کر دیا جاتا ہے جن کا تعلق یا تو اس کے فرائض رسالت سے ہوتا ہے یا وہ اس کی رسالت کی صداقت کی دلیل ہوتے ہیں اور ظاہر بات ہے کہ اللہ کے مطلع کرنے سے پیغمبر عالم الغیب نہیں ہو سکتا۔کیونکہ پیغمبر بھی اگر عالم الغیب ہو تو پھر اللہ کی طرف سے غیب کے اظہار کا کوئی مطلب ہی نہیں اس لئے عالم الغیب صرف اللہ ہی کی ذات ہے جیسا کہ یہاں بھی اس کی صراحت فرمائی گئی ہے۔ [2] یعنی نزول وحی کے وقت پیغمبر کے آگے پیچھے فرشتے ہوتے ہیں اور شیاطین اور جنات کو وحی کی باتیں سننے نہیں دیتے۔